.

شام سے طرابلس لائے گئے 4700 اجرتی جنگجوئوں میں 64 یورپ فرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے'سیرین آبزر ویٹری' کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترکی نے شام سے 4700 جنگجوئوں کو لیبیا میں قومی وفاق حکومت کی مدد کے لیے طرابلس منتقل کیا ہے۔ ان میں سے 1800 کو ترکی میں فوجی کیمپوں میں عسکری تربیت دی گئی، یا دی جا رہی ہے جب کہ طرابلس لائے گئے 64 جنگجو یورپی ملکوں کو فرار ہو گئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترکی کی طرف سے طرابلس میں لڑائی کے لیے 6000 جنگجوئوں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ طرابلس میں قومی وقاق حکومت اور نیشنل آرمی کے درمیان ہونے والی لڑائی میں شام سے لائے گئے 80 جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔

اجرتی جنگجوئوں کے کمانڈر کی شناخت

لیبیا کی قومی فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے گذشتہ سوموار کو بتایا تھا کہ ترکی نے چھ ہزار جنگجو شام سے لیبیا منتقل کیے ہیں۔ النصرہ فرنٹ کی طرف سے 1500 جنگجوئوں کو لیبیا منتقل کیا گیا ہے۔

ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ شام سے لیبیا لائے گئے اجرتی قاتلوں کی قیادت عقید غازی نامی ایک کمانڈر کر رہا ہے۔ انہوں نے دیگر جنگجوئوں کے ناموں کی فہرست بھی بیان کی ہے۔

المسماری کا کہنا تھا کہ قومی وفاق حکومت نے ہرجنگجو گروپ کے سربراہ کو اپنے جنگجو لیبیا لانے پر ایک ملین ڈالر کی رقم دی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ لیبیا میں قومی وفاق حکومت کے دفاع میں لڑنے کے لیے لائے گئے بیشتر جنگجو لیبیا فرار ہونا چاہتے ہیں۔ ان میں سے اب تک 64 جنگجو لیبیا اور ترکی سے یورپ فرار ہو چکے ہیں۔