.

صدرایردوآن کا ادلب میں ترکی کی نگران چوکیوں پر حملے کے بعدشام کو دھمکی آمیزپیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے خبردار کیا ہے کہ اگر شامی فوج نے شمال مغربی صوبہ ادلب میں ترکی کی مسلح افواج پر دوبارہ حملہ کیا تو اس کا جواب دیا جائے گا۔

ترکی کے سرکاری نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق صدر ایردوآن نے بدھ کو کہا ہے کہ ’’شمالی شام میں ہمارے فوجیوں پر حملے کا ردعمل ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوگا۔‘‘

ترکی اس وقت سخت مشکل صورت حال سے دوچار ہے۔شام میں ترکی کے اتحادی شامی حزب اختلاف کے گروپ ادلب میں اسدی فوج کے زمینی اور فضائی حملوں کی زد میں ہیں۔حملہ آور فوج کو روس کی فضائی قوت کی مدد حاصل ہے جبکہ ادلب میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے ترکی نے بارہ فوجی چوکیاں قائم کررکھی ہیں۔ یہ ترکی کے روس اور ایران کے ساتھ 2017ء میں طے شدہ ایک سمجھوتے کے تحت قائم کی گئی تھیں۔ان میں بعض کا اس وقت شامی فوج نے گھیراؤ کررکھا ہے۔

روس سے سمجھوتے ’’غیرمؤثر‘‘

صدر ایردوآن کا کہنا ہے کہ ترکی کے ماضی میں روس کے ساتھ ادلب کے بارے میں طے شدہ سمجھوتے غیرمؤثر ہوگئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے سوچی میں مذاکرات میں ادلب میں ’’محفوظ زون‘‘ کے قیام سے اتفاق کیا تھا لیکن اس کو نظرانداز کیا گیا ہے۔

انھوں نے دھمکی دی ہے کہ شامی نظام ادلب میں ترکی کی فوجی مشاہداتی چوکیوں کے ارد گرد سے اپنے فوجیوں کو واپس بلائے ،نہیں تو پھر ترکی کارروائی پر مجبور ہوگا۔

انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ’’اس وقت ہماری بارہ میں سے دو مشاہداتی چوکیاں رجیم کی لکیر کے پیچھے ہیں۔ہمیں امید ہے کہ رجیم فروری کے اختتام سے قبل ہماری مشاہداتی چوکیوں کو خالی کردے گا۔اگر رجیم انھیں خالی نہیں کرتا تو پھر ترکی معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور ہوگا۔‘‘

صدر ایردوآن کے بہ قول اس وقت ادلب میں جو کچھ رونما ہورہا ہے،اس کے نتیجے میں دس لاکھ شامی مہاجرین اور بے گھر افراد ترکی کی سرحد پر آ پڑے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ترکی کے بعض علاقوں میں ادلب سے آنے والے ان مہاجرین کو بسانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔