.

ڈیوڈ کیمرون کے ذاتی محافظ نے طیارے کے مسافروں کو دہشت میں ڈال دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی فضائی کمپنی برٹش ایئرویز کی پرواز اتوار کے روز نیویارک سے لندن کے لیے روانہ ہونے والی تھی تاہم طیارے کو ہنگامی طور پر اڑان بھرنے سے روک لیا گیا۔

برطانوی میڈیا میں اس واقعے اور اس کی وجوہات کی تفصیلات دو روز بعد سامنے آئی ہیں۔ برطانوی اخبار The Sun کے مطابق طیارے میں سوار ایک مسافر نے طیارے کے بیت الخلا کا رخ کیا تو اسے اندر ایک پستول ملا۔ یہ آسٹریا کا تیار کردہ 9 ایم ایم کا Glock 17 پستول تھا۔ اس صورت حال کے سبب بے چارے مسافر کے اعصاب تناؤ کا شکار ہو گئے۔ وہ دہشت کی حالت میں بیت الخلا سے باہر آیا اور پستول کے بارے میں عملے کو اطلاع دی۔ عملے کے ایک رکن نے پستول وہاں سے نکال لیا۔ اس دوران خوف وہ دہشت نے مزید بعض مسافروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ طیارے میں ہنگامہ سا برپا ہو گیا اور اسے ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک اڑان سے روک لیا گیا۔

طیارے کے کپتان نے اکانومی کلاس کے بعض مسافروں سے اس پستول کے بارے میں بات چیت کی۔ ان مسافروں میں برطانیہ کے سابق وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون بھی تھے جو اپنی اہلیہ کے ساتھ طیارے کی نشستوں پر براجمان تھے۔ ان کے نزدیک ہی کیمرون کے دو ذاتی محافظین بھی موجود تھے جو سات گھنٹے سے زیادہ کی اس پرواز کے لیے سابق وزیراعظم کی ہمراہ تھے۔ کپتان نے مسافروں کو بتایا کہ برٹش ایئرویز نے ذاتی حفاظت پر مامور ایک باڈی گارڈ افسر کو دوران پرواز ہتھیار رکھنے کی اجازت دی ہے۔ تاہم کپتان نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں اور اس جانب اشارہ بھی نہیں کیا کہ مذکورہ سیکورٹی افسر دراصل ڈیوڈ کیمرون کا ذاتی محافظ ہے۔

کپتان کے مطابق (کیمرون کا) ذاتی محافظ قضائے حاجت کے واسطے طیارے کے بیت الخلا میں داخل ہوا۔ وہاں اس نے 17 گولیوں کی گنجائش والے اپنے پستول کو کندھے سے اتار کر ایک طرف رکھا دیا۔ تاہم فراغت کے بعد وہ اپنا پستول لینا بھول گیا اور اسی طرح اپنی نشست پر واپس آ کر بیٹھ گیا۔ بعد ازاں ایک مسافر کو یہ پستول بیت الخلا میں ملا اور پھر اس مسافر نے ایسے طیارے میں رہنے سے انکار کر دیا جہاں ہتھیار موجود تھا۔ تنازع کے طول پکڑ جانے کے بعد آخرکار اس Glock 17 پستول کو طیارے سے باہر بھیج دیا گیا اور اس کے بعد طیارے نے لندن کے لیے اڑان بھری۔

اس حوالے سے اندیشوں میں گھرا ایک سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر یہ پستول طیارے میں سوار کسی شدت پسند کے ہاتھ لگ جاتا تو پھر اس کا کیا انجام ہوتا ؟ .. اس کا جواب ہر چھوٹا بڑا بخوبی جانتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ڈیوڈ کیمرون کے حوالے سے خطرناک بھول کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل مئی 2012 میں بھی ایک ملتا جلتا واقعہ پیش آیا تھا جو دو ماہ بعد میڈیا کی زینت بنا۔ اس وقت کیمرون برطانیہ کے وزیراعظم تھے۔ وہ اپنی بیگم اور بعض دوستوں کے ساتھ دیہی علاقے کے ایک شراب خانے میں رات کے کھانے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ کیمرون کے ہمراہ ان کی آٹھ سالہ بیٹی Nancyبھی تھی۔

کیمرون اور ان کی اہلیہ کھانے کے بعد اپنی گاڑی میں روانہ ہو گئے۔ ان دونوں کے خیال میں ننھی نینسی دوسری گاڑی میں سوار ہے۔ تاہم اپنی سرکاری قیام گاہ پر پہنچنے کے بعد کیمرون اور ان کی اہلیہ کو معلوم ہوا کہ وہ اپنی بیٹی کو تو دیہی علاقے کے اس شراب خانے میں بھول کر آ گئے ہیں۔ کیمرون فوری طور پر گاڑی میں اس مقام پر پہنچنے جہاں ان کی بیٹی نینسی اپنے باپ کی منتظر تھی۔