.

’مذاکرات کوئی بُری چیز نہیں'، ایران کے لہجے میں نرمی آ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بار بار جنگ اور تباہی کی باتیں کرنے والے ایران کے لہجے میں بھی نرمی آئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ’’مذاکرات کوئی بری چیز نہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’جنگ کے بعد مذاکرات ہی ہوتے ہیں اور ایران بامقصد اور تعمیری مذاکرات سے انکار نہیں کرتا۔ البتہ یہ مذاکرات غیر مشروط اور برابری کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔‘‘

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیرخارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ سفارت کاری اور مذاکرات ملکوں پر جنگ کے اخراجات کا بوجھ کم کردیتے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کی طرف اس سے قبل بار بار یہ کہا جاتا رہا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔ گذشتہ سوموار کو ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا تھا کہ ایران امریکیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے دو طرفہ مذاکرات نہیں کر سکتا ہے اور یہ ہماری پالیسی ہے۔

ریاض اور امارات کے ساتھ تنازعات کا حل

عراق میں ایرانی سفیر نے منگل کے روز شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں عراقی سرکاری نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ان کا ملک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ اختلافات کو جلد از جلد حل کرنا چاہتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے گذشتہ ماہ تہران سے تعلق رکھنے والے جرمن جریدے "ڈر سپیگل" کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ان کا ملک ابھی بھی واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے شرط یہ ہے کہ پابندیوں کو پہلے ختم کیا جائے۔

جواد ظریف نے کہا تھا کہ ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ وہائٹ ہاؤس میں کون بیٹھا ہے، اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ کس طرح برتاؤ کرتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اپنا ماضی درست کرسکتی ہے اور مذاکرات کی میز پر واپس آ سکتی ہے۔ ہم اب بھی مذاکرات کی میز پر موجود ہیں۔ مذاکرات کا میدان ہم نے نہیں امریکا نے چھوڑا ہے۔

ظریف کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کا ملک امریکا سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے لیکن اسے پہلے پابندیاں ختم کرنا ہوں گی۔ مگر ہم ایسا نہیں کرسکتے ... نہیں شکریہ۔" پھر انہوں نے خود ہی ٹویٹ کو فارسی زبان میں دہرایا۔

واشنگٹن اور تہران کے مابین تناؤ سنہ 2018ء کے بعد سےاس وقت بڑھ گیا ہے جب امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام پر طے پائے عالمی معاہدے سے علاحدگی اختیار کی تھی۔ 3 جنوری 2020ء کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد دونوں ملک جنگ کے دھانے پر آ گئے تھے۔ دونوں میں اب بھی کشیدگی اور تنائو موجود ہے۔