.

’پابندیوں نے ایران کا گلا گھونٹ دیا، ایک ڈالرمنتقل کرنا بھی مشکل'

تہران نے مسلسل انکار کے بعد آخر کار ایرانی نائب صدر نے سچ اگل دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکومت کی طرف سے بار بار کہا جاتا رہا ہے کہ تہران پر لگائی گئی امریکی پابندیاں غیر مؤثر ثابت ہو رہی ہیں مگر ایران کے نائب صدر نے نہ چاہتے ہوئے بھی سچ کہہ دیا ہے۔ نائب صدر اسحاق جہانگیری کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں نے ایرانی معیشت کا گلا گھونٹ کر رکھ دیا ہے اور ہم بنکوں پر عاید کردہ پابندیوں کی وجہ سے ایک ڈالر بھی اندرونِ ملک نہیں لا سکتے۔

خبر رساں ادارے 'ایسنا' کے مطابق ایرانی نائب صدر اسحاق جہاںگیری نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ امریکا کی ایرانی بنکاری نظام پرعاید کی گئی پابندیوں سے ایران ایک ڈالر بھی بیرون ملک سے نہیں سکتا۔ حتیٰ کہ ہم بیرون ملک اپنی رقوم بھی نہیں لا پا رہے ہیں۔

ایک بیان میں جہانگیری کا کہنا تھ کہ اقوام متحدہ کی جانب سے عاید سخت ترین پابندیاں تمام ممالک کو ماننا پڑتی ہیں لیکن امریکا کی پابندیاں بعض اوقات اقوام متحدہ یا یورپی یونین سے زیادہ اہم ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی تیل پر عائد پابندیاں اب تک کی سب سے زیادہ سخت پابندیاں ہیں۔ آج ہمیں امریکی پابندیوں کا سامنا ہے اور ان پر پوری دنیا میں نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہمارے تیل بردار جہازوں کا تعاقب کیا جاتا ہے اور انہیں روکنے والے ممالک کے عہدیداروں سے امریکی رابطے کرتے ہیں۔

انہوں نے سوئٹرزلینڈ کے توسط سے ایران کو ادویات کی فراہمی کو امریکی پروپیگنڈہ قرار دیا اور کہا کہ امسال ایران میں تین ارب ڈالر کی ادویات لائی گئی ہیں اور ہم نے اس کے پیسے ادا کیے ہیں۔