.

ایردوآن حکومت سکیورٹی کور کے نام پر’’مطلق العنانیت‘‘پرعمل پیرا ہے: رکن پارلیمان

’’ترکی کو زیادہ آزادی اور جمہوریت کی ضرورت ہے، پولیس فورس یا محافظوں کی نہیں: العربیہ سے خصوصی گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک پارلیمان میں حزبِ اختلاف کے سرکردہ رکن اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (عوامی جمہوری پارٹی ) کے چیئرمین سیزائی تیم علی نے صدر رجب طیب ایرودآن کی حکومت پر سکیورٹی کور کے نام پر مکمل طور پر’’مطلق العنانیت‘‘ پر عمل پیرا ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔

وہ العربیہ نیوز چینل سے خصوصی گفتگو کررہے تھے۔ حکمراں جماعت انصاف اور ترقی پارٹی ( آق) نے پارلیمان میں ایک مجوزہ بل منظور کرانے کی کوشش کی ہے لیکن اسے ناکامی کا منھ دیکھنا پڑاہے۔اس کی منظوری کی صورت میں رات کومسلح سکیورٹی گارڈز کو پہرے کے لیے تعینات کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’’حکمراں انصاف اور ترقی پارٹی ایک طویل عرصے سے مطلق العنانیت پر عمل پیرا ہے اور ترکی میں پولیس افسروں کی تعداد نے تو عالمی ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔‘‘

مسلح ملیشیاؤں کی سرکاری ملازمت

انھوں نے کہا کہ ’’حکمراں جماعت کی پالیسیوں نے ملک میں سیاسی ، اقتصادی اور سماجی بحران پیدا کردیے ہیں۔ وہ ان ایشوز کو جمہوریت ، انصاف اور انسانی حقوق کے ذریعے حل کرنے کے بجائے مسلح ملیشیاؤں کو سرکاری ملازم کے طورپر بھرتی کررہی ہے۔‘‘

سیزائی تیم علی کا کہنا تھا کہ ’’نئے مجوزہ قانون کا مقصد ترک معاشرے کو نئے دباؤ کا شکار کرنا اور حکومت کی مخالف آوازوں کو بزور طاقت دبانا ہے۔‘‘

معاشرے میں عسکریت

تیم علی کے نزدیک رات کو پہرا دینےوالے محافظوں کو پولیس کے اختیارات سونپنے کے لیے قانون کا مقصد معاشرے کو فوجی بنانا ہے۔ان کے نزدیک اس کے ذریعے آزادیوں کو دبایا جائے گا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ترکی کو زیادہ آزادی اور جمہوریت کی ضرورت ہے، پولیس فورس یا محافظوں کی نہیں۔‘‘

پارلیمان میں عوامی جمہوری پارٹی کے علاوہ ری پبلکن پیپلز پارٹی اور گُڈ پارٹی نے اس مجوزہ قانون کی مخالفت کی ہے جبکہ حکمراں آق اور اس کی اتحادی قوم پرست تحریک پارٹی نے اس کا دفاع کیا ہے۔