.

صدرٹرمپ کے ناقدایلچی کے استعفا کے بعد واشنگٹن میں برطانیہ کی نئی سفیر کا تقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ نے اقوام متحدہ میں اپنی موجودہ ایلچی کیرن پائرس کو امریکا میں نئی سفیر مقرر کیا ہے۔ان کے پیش رو سابق برطانوی سفیر کِم ڈاروک گذشتہ سال صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ پر تنقید کی مراسلت افشا ہونے کے بعد مستعفی ہوگئے تھے۔

ڈاؤننگ اسٹریٹ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ کیرن پائرس کو اب نئی ذمے داریاں سونپی جارہی ہیں اور وہ اب کِم ڈاروک کی جگہ لیں گی۔

کِم ڈاروک نے گذشتہ سال ایک سفارتی مراسلت میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’’نکما‘‘ اور ان کی انتظامیہ کو ’’غیر فعال‘‘ قراردیا تھا۔اس کے جواب میں امریکی صدر نے انھیں’’احمق‘‘ اور ’’جنگلی‘‘ قرار دیا تھا۔

امریکی صدر نے سفیرکِم کی خفیہ مراسلت گذشتہ سال جولائی میں ایک برطانوی اخبار میں شائع ہونے کے بعد انھیں ان ’خطابات‘ سے نوازا تھا۔

اس مراسلت کے افشا پر صدر ٹرمپ نے اپنے سخت غصے کا اظہار کیا تھا اور انھوں نے ٹویٹر پر برطانوی سفیر اور تب (سابق) وزیراعظم تھریزامے پر تابڑ توڑ حملے کیے تھے۔ اس تنازع میں برطانوی وزیراعظم نے اپنے سفیر کی مکمل حمایت کا اظہار کیا تھا۔

مسٹر کِم ڈاروک نے اپنے استعفے میں لکھاتھا کہ’’سفارت خانے کی سرکاری دستاویزات افشا ہونے کے بعد میرے عہدے اور بہ طور سفیر میری بقیہ مدت کے بارے میں بہت سی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں۔ میں ان قیاس آرائیوں کا خاتمہ چاہتا تھا۔ موجودہ صورت حال میں میرے لیے اپنے فرائض منصبی کو انجام دینا ناممکن ہو کر رہ گیاتھا۔‘‘

واضح رہے کہ مسٹر کِم دسمبر 2019ء میں ویسے ہی بہ طور سفیر سبکدوش ہونے والے تھے مگر انھوں نے صدر ٹرمپ سے مزید محاذ آرائی سے بچنے کے لیے جولائی میں اپنا عہدہ چھوڑنے ہی میں عافیت جانی تھی۔