.

قطر کی حمایت یافتہ الاتحاد العالمی لعلماء المسلمين: انتہا پسندی کی تاریخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کی حمایت یافتہ الاتحاد العالمی لعلماء المسلمين( آئی یو ایم ایس) انتہاپسندانہ مؤقف اختیار کرنے کی ایک تاریخ رکھتی ہے۔اس کا نیا مؤقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ مشرقِ اوسط امن منصوبہ سے متعلق ہے۔اس نے اس کی مذمت کی ہے اور مسلم دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ اس کے خلاف ’’تمام وسائل‘‘ بروئے کار لائے۔

امریکی صدر کے امن منصوبہ کے اعلان کے فوری بعد الاتحاد العالمی لعلماء المسلمين نے ایک بیان جاری کیا تھا اور اس میں دنیا کے تمام آزاد لوگوں پر زوردیا تھا کہ وہ ہر ممکن ذرائع سے اس مسلط کردہ جنگ کی مخالفت کریں۔

مسلم علماء کی اس تنظیم نے اپنے بانی متنازع عالم دین علامہ یوسف القرضاوی کی تحریر کا ایک اقتباس اپنی ویب سائٹ پر جاری کیا تھا۔انھوں نے ایک مرتبہ کہا تھا:’’یہ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ بیت المقدس (یروشلیم) کے دفاع میں جہاد کرے اور اپنی جان قربان کردے۔‘‘

ہولوکاسٹ سے انکار

یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ قطر کی حمایت یافتہ مسلم علماء کی اس عالمی تنظیم نے کوئی نیا تنازع کھڑا کیا ہے۔اس نے حال ہی میں مکہ میں قائم رابطہ عالمِ اسلامی کے وفد کے پولینڈ میں نازیوں کے آشووٹز اذیت رسانی کیمپ کے دورے کی مخالفت کی ہے۔اس تنظیم کے صدر احمد الریسونی نے لکھا:’’یہ ہر کسی کا حق اور ذمے داری ہے کہ وہ ہولو کاسٹ کے بارے میں سوال اٹھائے۔‘‘

گذشتہ سال اپریل میں اس تنظیم نے دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے مبلغین سے کہا تھا کہ وہ اپنے جمعہ کے خطبات میں اسرائیل کے خلاف جہاد پر زوردیں۔

شہری سے سیاسی تنظیم بننے کا سفر

مسلم علماء کی یہ یونین جب 2004ء میں قائم کی گئی تھی تو اس کے بانی صدر علامہ یوسف القرضاوی نے اس کے اغراض ومقاصد بیان کیے تھے اور کہا تھا کہ یہ سیاسی نہیں بلکہ شہری تنظیم ہوگی۔تاہم گزرے برسوں کے دوران میں یہ اتحاد سیاسی بن چکا ہے۔اس کا ایک ثبوت 2016ء میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے خلاف ناکام فوجی بغاوت کے بعد بیانات ہیں۔

اس اتحاد نے تب ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’عظیم صدر ایردوآن اپنا راست اقدام کریں اور ترکی کی اپنی منشا اور ہماری خواہش کے مطابق تعمیر کریں۔لوگوں کو سچائی کی جانب لے جائیں،محکوم ،جبر واستبداد کا شکار لوگوں اور افتادگانِ خاک کی مدد کریں تو ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔‘‘

متعدد بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق ترکی ان ممالک میں سرفہرست ہے جو پولیس کی حراست میں لوگوں پر تشدد کے الزامات کی تحقیقات میں ناکام رہے ہیں۔مسلم علماء کے اتحاد کی جانب سے آج تک ترکی میں زیرحراست افراد کے بارے میں بھی کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

احمد الریسونی نے اپنی ذاتی ویب گاہ پر2015ء میں ایک مضمون پوسٹ کیا تھا اور اس میں یہ لکھا تھا کہ داعش مغرب کی پیداوار ہے۔انھوں نے لکھا تھا:’’داعش کے خلاف جنگ امریکا اور مغرب کی پیداوار ہے،پھر ایران کی فرقہ وار شیعہ پیداوار ہے جبکہ عرب اور مسلم عوام کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ان کی اس فیصلہ سازی اور منصوبہ بندی کا کمان سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔انھیں اس میں بالکل بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘‘

یوسف القرضاوی کا سخت مؤقف

دوحہ میں قائم الاتحاد العالمی لعلماء المسلمين کے مصری نژاد بانی یوسف القرضاوی کا فرانس اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک میں 2012ء سے داخلہ بند ہے۔تب انھوں نے اسرائیلیوں کے خلاف خودکش بم دھماکوں کی وکالت کی تھی۔انھیں کالعدم الاخوان المسلمون کا روحانی رہبر بھی خیال کیا جاتا ہے۔

ان کا ملکوں ہی میں داخلہ بند نہیں بلکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت نے بھی ان پر پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔گوگل نے ایک ایپ کو اس بنا پر ہٹا دیا ہے کہ اس کا تعارف علامہ یوسف القرضاوی ہی نے لکھا تھا اور اس میں یہود مخالف مواد موجود تھا۔

اس کو یورو فتویٰ ایپ کا نام دیا گیا تھا۔اس کا ڈبلن میں یورپی کونسل برائے فتویٰ اور تحقیق نے آغاز کیا تھا اور اس کا مقصد یورپی مسلمانوں کو اسلامی کی روشن تعلیمات سے آگاہ کرنا تھا۔

گذشتہ برسوں کے دوران میں یوسف القرضاوی نے ایسے متعدد فتاویٰ جاری کیے ہیں جو انتہاپسندانہ اور تشدد آمیز مواد بھی مبنی ہے اور انتہا پسند گروپ القاعدہ کے روایتی تصورات کے مطابق ہے۔

انھوں نے تین سال قبل قطر کے ملکیتی الجزیرہ چینل پر ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ایک فتویٰ جاری کیا تھا۔ ان سے ایک ناظر نے شام میں صدر بشار الاسد کی عمل داری والے علاقوں میں موجود مسلمانوں کے بارے میں یہ سوال پوچھا تھا کہ کیا ان کا قتل جائز ہے کیونکہ ان میں بہت سے صدر بشار الاسد کی حمایت بھی کرتے ہوں گے۔‘‘

یوسف القرضاوی نے اس کے جواب میں یہ کہا تھا کہ جو کوئی بھی بشارالاسد کی مخالفت نہیں کرتا ہے ،اس کو قتل کیا جانا چاہیے۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’’ ہم نیّتوں کو نہیں دیکھتے ہیں۔جو کوئی بھی بشارالاسد کی حکومت کے مقابلے میں باہر نہیں نکلتا ہے اور اس کی عمل داری والے علاقے ہی میں رہتا ہے،وہ خواہ شہری ہے یا فوجی، اس سے لڑنا چاہیے اور اس کو قتل کیا جانا چاہیے۔‘‘