.

کرونا وائرس کی وبا: دنیا میں ماسک اور ذاتی تحفظ کے آلات کم پڑ گئے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیوایچ او) کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ چین سے پھیلنے والے مہلک کرونا وائرس سے تحفظ کے لیے ماسک اور دوسرے آلات کم پڑتے جارہے ہیں۔

تيدروس أدهانوم غيبريسوس نے جنیوا میں ڈبلیو ایچ او کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں جمعہ کو بتایا ہے کہ اس وقت ’’دنیا کو ذاتی تحفظ کے آلات (پی پی ای) کی کم یابی کا سامنا ہے۔‘‘

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ بعض اشیاء کی قیمتیں معمول سے سو گنا زیادہ ہیں لیکن چہرے کے ماسک کے نامناسب استعمال کی وجہ سے مسئلہ سنگین صورت اختیار کرتا جارہا ہے کیونکہ ان کے بہ قول ایسے لوگ بھی ماسک پہن رہے ہیں جو بیمار ہیں اور نہ ہی طبی عملہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اسٹاک میں پڑے ماسک ختم ہوچکے ہیں۔اب عالمی سطح پر ماسک اور نظام تنفس سے متعلق آلات ڈبلیو ایچ او اور اس کے شراکت داروں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہوچکے ہیں۔اس کے علاوہ اخلاقی معاملہ بھی درپیش ہے۔

تيدروس أدهانوم غيبريسوس نے ماسک اور دوسرا سامان تیار کرنے اور اس کے تقسیم کار گروپ کے نمایندوں سے گفتگو کے بعد ان کمپنیوں کی تعریف کی ہے جنھوں نے طبی عملہ کے سوا کسی کوسامان فروخت نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

ان کا کہناتھا کہ ذاتی تحفظ کے آلات کا ذخیرہ بہت تھوڑا ہے۔ہمیں یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ یہ آلات وہاں پہنچانے چاہییں جہاں لوگوں کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ان ممالک اور علاقوں میں ان آلات کا ذخیرہ نہ کیا جائے جہاں وائرس پھیلنے کی شرح بہت تھوڑی ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے اسی ہفتے جن ممالک کو مدد کی ضرورت ہے، وہاں ماسک ، دستانے ، سانس لینے میں معاون آلات ، تنہائی میں تحفظ کے لیے گاؤن اور ٹیسٹ کٹیں بھیجنا شروع کردی ہیں۔

واضح رہے کہ چین سے پھیلنے والے مہلک وائرس کرونا سے دنیا بھر میں گذشتہ ڈیڑھ ایک ماہ میں 630 سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں اور کم سے کم 31000 افراد متاثر ہوئے ہیں۔