.

بھارت : دہلی اسمبلی کے انتخاب میں وزیراعظم مودی کی بی جے پی کو شکست کا سامنا

عام آدمی پارٹی ایگزٹ پول میں سب سے آگے،جیت کر تیسری مرتبہ حکومت بنائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے دارالحکومت دہلی کی نئی اسمبلی کے انتخاب کے لیے ہفتے کے روز لاکھوں ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔ایگزٹ پول کے مطابق ان اہم علاقائی انتخابات میں وزیراعظم نریندر مودی کی انتہا پسند ہندوقوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست کا سامنا ہے۔

دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال کے زیر قیادت عام آدمی پارٹی پہلے نمبر پر ہے۔بھارت کے نو میڈیا اداروں نے بعد از پول رائے عامہ کے جائزے جاری کیے ہیں۔ان کے مطابق عام آدمی پارٹی کے امیدواروں کو دہلی اسمبلی کی ستر میں سے لگ بھگ پچاس نشستوں پر برتری حاصل تھی۔بی جے پی دوسرے نمبر پر تھی جبکہ حزب اختلاف کی بڑی جماعت کانگریس بہ مشکل دو ایک نشستیں ہی حاصل کرسکے گی۔

دہلی کے نائب وزیراعلیٰ منیش سیسوڈیا نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ہم بھاری اکثریت سے جیت رہے ہیں۔‘‘تاہم بی جے پی دہلی کے لیڈر منوج ٹیواری نے دعویٰ کیا ہے کہ 11 فروری کو جب انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوگا تو یہ ایگزٹ پول ناکام ہوجائیں گے۔ہم 48 نشستوں کے ساتھ جیت رہے ہوں گے اور بی جے پی دہلی میں سرکار بنانے جارہی ہے۔

بھارت کے الیکشن کمیشن کے مطابق نئی دہلی میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد ایک کروڑ چھیالیس لاکھ تھی۔ان میں قریباً 57 فی صد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔انتخابات کے ابتدائی نتائج کا اعلان منگل کے روز کیا جائے گا۔

عام آدمی پارٹی نے اپنے گذشتہ پانچ سالہ دورِ اقتدار میں غریب نواز پالیسیوں پر عمل درآمد کیا ہے۔اس نے سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنائی ہے، لوگوں کو صحت کی مفت سہولت مہیا کی ہے اور خواتین کوبس کے کرایوں میں رعایت دی ہے جس کی وجہ سے اس کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور اس نے ہندو قوم پرستی کو پروان چڑھانے والی حکمراں جماعت بی جے پی کو بری طرح پچھاڑ دیا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی مرکزی حکومت نے شہریت کا نیا قانون متعارف کرایا تھا۔اس کے تحت مسلمانوں سے ان کی شہریت کے ثبوت طلب کیے جارہے ہیں۔اس متنازع قانون کے خلاف گذشتہ دوماہ سے دہلی کے علاقے شاہین باغ میں مسلمان کے علاوہ انسانی حقوق کے کارکنان سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔بی جے پی دہلی اسمبلی کے انتخابات کو شہریت کے اس نئے قانون پر ریفرینڈم قراردے رہی تھی لیکن اس کا یہ دعویٰ بری طرح پٹ گیا ہے۔

نئے قانون کے تحت تین ہمسایہ ممالک پاکستان ، بنگلہ دیش اور افغانستان سے غیر قانونی طور پر آنے والے غیرمسلم تارکین وطن کو تو بھارت کی شہریت دے دی جائے گی لیکن بھارت میں برسوں سے آباد مسلمانوں کو ثبوت مہیا کرنے کی صورت ہی میں شہریت دی جائے گی ورنہ انھیں بے وطن سمجھا جائے گا۔

نریندر مودی کی حکومت نے اس متنازع قانون کو متعارف کرانے سے قبل گذشتہ سال اگست میں متنازع ریاست جموں وکشمیر کو بھارتی آئین کے تحت حاصل خصوصی نیم خود مختار حیثیت بھی ختم کردی تھی اوراس کو دو وفاقی علاقے قراردے دیا تھا۔اس متنازع اقدام کے خلاف ریاست میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جن کو دبانے کے لیے بھارتی سکیورٹی فورسز کشمیریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کارروائیاں کررہی ہیں اور پوری ریاست بالخصوص گرمائی دارالحکومت سری نگر میں انٹرنیٹ کی سروس بند ہے اور لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر پابندی عاید ہے۔

بھارت کے قوم پرست انتہا پسند ہندوؤں نے نریندر مودی کے ان دونوں متنازع اقدامات کی حمایت کی تھی اور ان کے حق میں مظاہرے بھی کیے گئے ہیں لیکن انتخابات میں انھیں بدترین ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔بی جے پی گذشتہ سال دو اہم ریاستوں میں منعقدہ انتخابات میں بھی شکست سے دوچار ہوئی تھی اور اب دہلی اسمبلی کے انتخابات میں اس کو ایک مرتبہ پھر ہار کا مُنھ دیکھنا پڑا ہے۔

واضح رہے کہ عام آدمی پارٹی نے 2015ء میں نئی دہلی میں منعقدہ انتخابات میں اسمبلی کی 70 میں سے 67 نشستیں حاصل کی تھیں اور بی جی پی ایک سال قبل 2014ء میں مرکز میں حکومت بنانے کے باوجود صرف تین نشستیں حاصل کرسکی تھی۔