.

سعودی وزارت ٹرانسپورٹ کا ہائپر لوپ ٹکنالوجی کی کمپنی کے ساتھ معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں وزارت نقل و حمل نے "وَرجِن ہائپر لوپ وَن" کمپنی کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے مقاصد میں مملکت میں مسافروں اور سامان کی منتقلی اور ترسیل کے میدان میں ہائپر لوپ ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے ابتدائی مطالعہ کرنا، ہائپر لوپ کی سائنس اور ٹکنالوجی میں مشترکہ تحقیق کرنا اور نقل و حمل کے شعبے میں ذمے داران اور ماہرین کے متبادل دوروں کا انتظام کرنا ہے۔ یہ سمجھوتا سعودی وزارت نقل و حمل کے اہداف کا حصہ ہے۔ یہ اہداف جدید ٹرانسپورٹ سسٹم کے حوالے سے مستقبل کی منصوبہ بندی کے سلسلے میں ہیں۔

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی SPA کے مطابق مملکت کے وزیر ٹرانسپورٹ انجینئر صالح بن ناصر الجاسر نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام سعودی ولی عہد کے اُس موقف کو باور کراتا ہے جو انہوں نے ویژن 2030 پروگرام کے ضمن میں معیشت کے مستقبل کی تشکیل میں ٹرانسپورٹ سیکٹر کے کردار کی اہمیت کے حوالے سے ظاہر کیا تھا۔

الجاسر کے مطابق یہ منصوبہ مستقبل کی ٹرانسپورٹ ٹکنالوجی کو مضبوط بنانے کے لیے مطلوب انفرا اسٹرکچر کی فراہمی میں کام آئے گا۔ اس طرح ہائپر لُوپ ٹکنالوجی کے ذریعے مسافروں اور سامان کی منتقلی اور آمد و رفت کو مزید آسان بنایا جا سکے گا۔

دوسری جانب "وَرجِن ہائپر لوپ وَن" کے مینجمنٹ بورڈ کے چیئرمین سلطان احمد بن سلیم نے باور کرایا کہ اُن کی کمپنی جدید ترین ٹکنالوجی کے ذریعے مملکت میں وزارت ٹرانسپورٹ کے ساتھ مل کر ،،، مستقبل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کی شدید خواہش رکھتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ "وَرجِن ہائپر لوپ وَن" کمپنی کی فراہم کردہ ٹکنالوجی انتہائی سرعت کی حامل اور دیرپا ہے۔ یہ مسافروں کی ایک بڑی تعداد کو منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کمپنی اس ٹکنالوجی کو 400 سے زیادہ تجرباتی اسفار میں استعمال کر چکی ہے۔ ہائپر لوپ ٹکنالوجی کے ذریعے ریاض اور جدہ کے درمیان فاصلہ 46 منٹ میں اور جدہ سے نیوم کا فاصلہ 40 منٹ میں طے کیا جا سکے گا .. جب کہ ریاض اور ابوظبی کے درمیان مسافت صرف 48 منٹ میں طے کی جا سکے گی۔

سلطان احمد بن سلیم نے باور کرایا کہ توانائی کے استعمال کے لحاظ سے یہ نظام بہترین ثابت ہو گا۔ اس خطے میں ہائپر لوپ سسٹم کو شمسی توانائی (سولر پینلوں) سے چلایا جا سکتا ہے۔ یہ پینل ہائپر لوپ کی خصوصی سُرنگ (ٹیوب) پر نصب ہوں گے۔ اس پہلو نے ہائپر لوپ ٹکنالوجی کو مملکت کے لیے نہایت پُر کشش بنا دیا ہے۔