.

'کرونا وائرس' کی وباء میں جنوبی کوریا میں اجتماعی شادی توجہ کا مرکز بن گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں چین سے اچانک نمودار ہونے والی 'کرونا' وائرس کی وباء نے نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

کرونا وائرس سے بچنے کے لیے پوری دنیا میں میڈیکل ماسک کی طلب غیرمعمولی اور غیر مسبوق حد تک بڑھ چکی ہے۔ نہ صرف چین بلکہ دنیا میں آپ کو لوگ سڑکوں پر چلتے، اسپتالوں، پبلک مقامات، سڑکوں، دفاتر، کام کی جگہوں حتیٰ کہ شادیوں میں بھی ماسک پہنے نظر آتے ہیں۔

برطانوی اخبار "ڈیلی میل" ایک رپورٹ میں کرونا وائرس کی وباء‌ کے جلو میں جنوبی کوریا میں میڈیکل ماسک پہنے لوگوں پرمشتمل ایک اجتماعی شادی کی تصاویر کے ساتھ تفصیلات شائع کی ہیں۔ اس تقریب میں دلہے، دلہنیں، مہمان اور میزبان سب ماسک پہنے دیکھے جاسکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سیئول میں ایک بڑے چرچ میں ہونے والی اجتماعی شادی کی تقریب میں شرکاء کی 'کرونا' وائرس سے بچائو کے لیے سخت ترین حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

چرچ کے عملے نے ہینڈ سینیٹائزر تیار کیا، طبی ماسک تقسیم کیے اور شوہروں کے درجہ حرارت کا جائزہ لیا اور پوری دنیا سے 30،000 کے قریب لوگ سیئول کے شمال مشرق میں جپیونگ کے چیونگ شم ورلڈ پیس سنٹر میں جمع ہوئے۔ انہوں‌ نے ملک میں چھ ہزار نئے جوڑوں کی اجتماعی شادی میں شرکت کی۔

جنوبی کوریا کے دولہا لی کوون سیوک جو اس گروپ کی تقریب میں شریک تھے نے کہا "میں اجتماعی شادی میں شرکت کرکے بہت خوش ہوں ۔چونکہ ان دنوں کرونا وائرس گردش کر رہا ہے اس لیے میں نے محتاط رہنے کے لیے ماسک پہنا ہے''۔

بنین نیگسان کی دلہن میونگوت لہٹ نامی دلہن نے کہا کہ میں نے ماسک نہیں پہنا۔ میں اپنے شوہر کے لیے زیادہ خوبصورت دکھنا چاہتی ہوں۔

اس موقعے پرموجود یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے کہا کہ یہ جھوٹ ہوگا اگر میں یہ کہوں کہ مجھے انفیکشن کے بارے میں کوئی فکر نہیں ہے ، لیکن مجھے لگتا ہے کہ میں آج اس وائرس سے محفوظ رہوں گا۔"

جنوبی کوریا میںکرونا وائرس کے 24 تصدیق شدہ واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔دارالحکومت سیئول نے ان غیر ملکیوں میں داخلے کی تردید کی ہے جو حال ہی میں اس وائرس کے مرکز چین کے شہر ووہان سے آئے تھے۔

کرونا وائرس کی وجہ سے چین اور بعض دوسرے ممالک میں تہواروں، تفریحی تقریبات اور موسیقی سے متعلق تقریبات کا انعقاد بھی منسوخ کردیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ عالمی ادارہ صحت نے جمعہ کو متنبہ کیا کہ ابھرتے ہوئے کرونا وائرس کے خلاف دنیا کو ماسک اور دیگر حفاظتی آلات کی کمی کا سامنا ہے۔

جنیوا میں ڈبلیو ایچ او کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں ٹیڈروس اذانم گیبریس نے کہا کہ دنیا کو انفرادی حفاظتی آلات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ چین میں عہدیداروں سے بات کریں گے تاکہ ماسک کی پیداوار اور سپلائی میں "رکاوٹ" کو دور کیا جاسکے۔