.

تھائی لینڈ میں فوجی کے ہاتھوں قتل عام کے ویڈیو اور تصویری مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تھائی لینڈکے وزیر صحت نے بتایا کہ اتوار کی صبح کے ایک شاپنگ مال پر حملے میں سیکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار سمیت 21 افراد ہلاک اور ایک رکن سے زایدزخمی ہوئے ہیں۔

تھائی صحت عامہ کے وزیر انٹن شرنورکول نے نخون رتچاسیما کے تجارتی مرکز کے باہر نامہ نگاروں کو اس واقعے کے بارے میں مختصر بریفنگ دی۔ حملہ آور فوجی اسی جگہ میںایک عمارت میں گھس کر چھپا ہواہے۔

شاپنگ مال کے اندر سے دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تھائی وزارت دفاع کے ترجمان نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کہا تھا کہ شمال کے مشرقی شہر نخون رتچاسیما میں ایک فوجی نے اندھا دھند فائرنگ کردی جس میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوگئے۔

ترجمان کونگشپ تانتروانیت نے زخمیوں کی تعداد ظاہر نہیں کی ، انہوں نے مزید کہا کہ یہ ابھی تک واضح نہیں ہوسکا ہے کہ آیا بندوق بردار نے ٹرمینل 21 تجارتی مرکز کے اندر لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ شاپنگ مال میں موجود لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور پولیس اور فوج کے اہلکاروں نے شاپنگ پر حملہ کیا اور سیکڑوں کو فرار ہونے میں مدد فراہم کی۔

انہوں نے مزید کہا پولیس اور جوانوں نے مشترکہ آپریشن کیا اور سیکڑوں لوگوں کو مال چھوڑنے میں مدد فراہم کی۔ مرکز کے اندر باقی لوگوں کی تعداد معلوم نہیں ہے۔

مقامی میڈیا نے ابتدا میں 12 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔

اس کے علاوہ ، کچھ مقامی میڈیا نے انکشاف کیا کہ "جیکرپنتھ ٹوما" نامی اس سپاہی نے اپنے فوجی اڈے سے "ہموی" کار اور ہتھیار چوری کیے ، پھر وہ وہاں سے چلا گیا اور شہر کے شمال مشرق میں اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔

تفتیش کاروں نے یہ بھی کہا کہ سپاہی بعد میں ایک مقامی شاپنگ سینٹر گیا اور خریداروں “ر گولیاں چلائیں۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ 30 سالہ شخص نے بیک وقت اس حملے کی متعدد تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپنے اکاؤنٹ پر پوسٹ کیں۔

حملہ آور کو ایک ویڈیو میں یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ میں اب تھک چکا ہوں۔ میری انگلی بھی حرکت نہیں کر رہی۔ کیا مجھے ابھی ہار ماننا چاہئے؟"۔