.

امریکی فضائیہ میں نامعلوم وجوہات کی بناء پر خود کشی کے رجحان میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فضائیہ میں گذشتہ ایک سال کےدوران خود کشی کے واقعات نے حکام کو پریشان کردیا ہے۔ امریکی حکام اور ابتدائی غیر مطبوعہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال امریکی فضائیہ میں خودکشیوں کی تعداد کم از کم تین دہائیوں میں اعلی ترین سطح پر آگئی ہے ، جب کہ دیگر فوجی سروسز اور شعبوں میں بھی خود کشی کی تعداد تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔

فضائیہ میں خودکشی کی شرح میں اضافے کی وجوہات کو پوری طرح سے سمجھا نہیں جا سکا ہے ۔ گذشتہ کئی برسوں سے امریکی فوج میں‌خود کشی کی روک تھام کے لیے کی جانے والی کوششوں کے باوجود خود کشی کا بڑھتا رجحان پریشان کن ہے۔ ایک طرف فوج اور دوسری طرف امریکی شہریوں میں خود کشی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق فضائیہ کے 84 فعال اور متحرک اہلکاروں‌ نے خود کشی جب کہ سال 2018ء میں یہ تعداد 60 تھی۔

پچھلے پانچ سال میں امریکی فضائیہ میں اوسطا 60 سے 64 اہلکار خود کشی کرتے رہے ہیں مگر گذشتہ سال خود کشی کے واقعات میں غیر مسبوق اضافہ دیکھا گیا۔

دریں اثنا ایئر فورس کے عہدیداروںسال 2019ء میں خود کشی کے کیسز میں اضافے کا اعتراف کیا ہے۔

اس سے قبل امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان اور فضائیہ میں شائع کردہ اعداد و شمار اور مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ 2015 میں ہونے والی 64 خودکشیوں‌کے بعد 2019ء میں سب سے زیادہ خود کشی کی گئی۔ 1990ء سے 2002ء تک یہ شرح اوسطا 42 تھی اور ایک بار 62 تک پہنچ گئی تھی۔

ایئر فورس میں افرادی قوت اور سروسز کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل برائن کیلی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خود کشی ایک مشکل قومی مسئلہ ہے جس کی آسانی سے نشاندہی نہیں کی جاسکتی۔ اس کی روک تھام کے لیے امریکی قیادت کو موثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔