.

افریقی یونین کا لیبیا میں‌ غیر ملکی مداخلت بند، سوڈان پرپابندیاں اٹھانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی یونین نے لیبیا میں جاری غیرملکی مداخلت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے لیبیا کے معاملے کو غیر جانب دار رہنے اور وہاں پر جاری محاذ آرائی کو بین الاقوامی قوانین کے تحت حل کرنے پر زور دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یونین نے افریقی ملک سوڈان پردہشت گردی کی پشت پناہی کے الزام میں عاید پابندیاں بھی فورا اٹھانے پر زور دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ‌ کے مطابق کل سوموار کو افریقی ملک ایتھوپیا کے دارالحکوم ادیس ابابا میں ہونے والے یونین کے اجلاس کے آخر میں‌جاری کردہ اعلامیے میں لیبیا میں غیر ملکی مداخلت کو واضح طور پر مسترد کردیا گیا۔

العربیہ کے نمائندے نے پیر کی شام کو اطلاع دی کہ ادیس ابابا میں افریقی سربراہی اجلاس کے اختتام سے قبل مزید کئی گھنٹے اجلاس جاری رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

افریقی سمٹ کا سالانہ اجلاس ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں دو دن تک جاری رہا۔ اجلاس میں لیبیا میں سیاسی حل، غیرملکی مداخلت بند کرنے اور لیبیا میں انتہا پسندی کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔

افریقی یونین کے امن و سلامتی کے کمشنر اسماعیل الشرقی نے پیر کو کہا کہ افریقی رہ نماؤں نے لیبیا کی صورتحال جاننے اور جنگ بندی کا احترام یقینی بنانے کے لیے ایک امن مشن لیبیا روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

الشرقی نے برلن سربراہی اجلاس کے نتائج کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا افریقی ساحل اور بحیرہ چاڈ کے راسے لیبیا سے آنے والے جنگجوئوں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

سوڈان پر افریقی کمشنر برائے امن و سلامتی نے "عبوری مدت میں پیشرفت" کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ افریقی یونین کا متفقہ مطالبہ ہے کہ سوڈان کو دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالا جائے۔

الشرقی نے مزید کہا کہ یونین کو سوڈان کی معاشی صورتحال پر بھی تشویش ہے۔یونین سوڈان کی حمایت کرتی رہے ی۔

پیر کے روز ادیس ابابا نے افریقی یونین سربراہی اجلاس کے دوسرے روز بھی بات چیت جاری رکھی۔اجلاس میں فلسطین ، کینیڈا ، ناروے کے وزیر اعظموں کے علاوہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور عرب لیگ کے سکریٹری جنرل کے علاوہ ، سربراہان مملکت اور رکن حکومتوں کے اعلیٰ سطحی وفود نے بھی شرکت کی۔