الجزائر کے سابق صدر بوتفلیقہ کے قریبی ساتھیوں اور رشتہ داروں‌ کو قید کی سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کل سوموار کے روز الجزائر کی ایک فوجی عدالت نے سابق صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے بھائی سمیت ان کے کئی دوسرے مقربین کو طویل قید کی سزائوں کا حکم دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌نیٹ کے مطابق فوجی عدالت نے مسلح افواج کے خلاف اور ریاست کے خلاف سازش کرنے پر الجزائر کے سابق صدر عبد لعزیز بوتفلیقہ کے بھائی سعید دو بوتفلیقہ ، اور دو سابق سکیورٹی اہلکاروں 15 سال قید کی سزا سنائی۔

العربیہ ڈاٹ‌نیٹ کے مطابق فوجی عدالت نے لیبر پارٹی کی چیئرپرسن لویزہ حنون کو بری کرتے ہوئے انہیں جیل سے رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ حنون کو آج جیل سے رہا کردیا جائے گا۔

خیال رہے کہ لیبر پارٹی کی رہ نما لویزہ حنون کو 9 مئی 2019 کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اس سے قبل بلیدا ملٹری کورٹ نے انھیں 3 ماہ قید کی سزا سنائی تھی جب کہ اس سے قبل انہیں 15 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

دریں اثنا ، عدالت نے جنرل محمد میدین کے خلاف سابقہ سزاؤں کو برقرار رکھا۔جنرل بشیر طرطاق اور سابق صدر کے بھائی سعید بوتفلیقہ کو پندرہ پندرہ سال قید کی سزائیں‌سنائی ہیں۔

فوجی عدالت نے سابق وزیر دفاع خالد نزار اور ان کے بیٹےلطفی نزار جب کہ ایک اور شخصیت جن کی شناخت بن حمدین فرید کےنام سے کی گئی ہے کو ان کی عدم موجودگی میں 20 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

اس طرح سے ملٹری اپیل بورڈ نے 25 ستمبر 2019 کو جاری ابتدائی فیصلے میں تینوں ملزموں کے خلاف سزا کو برقرار رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں