.

بھارت : اسکول میں کھیل پرغداری کے الزام میں گرفتار دوخواتین کی ضمانت پر رہائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی کے نافذ کردہ شہریت کے متنازع قانون کے بارے میں اسکول میں ایک کھیل پیش کرنے پر غداری کے الزام میں گرفتاردو خواتین کو ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے۔

50 سالہ معلمہ فریدہ بیگم اور ایک بچے کی والدہ 36 سالہ نازب النساء کو 30 جنوری کو جنوبی ریاست کرناٹک میں گرفتار کیا گیا تھا۔ان پر شاہین پبلک اسکول میں بچوں کو اسٹیج پر ڈراما پیش کرنے میں مدد دینے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

اس کھیل میں ایک مشوش خاندان کو پیش کیا گیا تھا۔اس کے ارکان کو لاکھوں مسلم خاندانوں سے حکومت کی جانب سے شہریت کا ثبوت پیش کرنے کے لیے پوچھ تاچھ پر تشویش لاحق ہے۔اگر وہ ثبوت فراہم نہیں کرتے تو پھر انھیں ملک بدر کردیا جائے گا۔

وزیراعظم مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے ایک رکن نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کھیل میں ہندو قوم پرست لیڈر کی توہین کی گئی تھی۔اس کے بعد مذکورہ دونوں خواتین کو برطانوی دور کے ایک قانون کے تحت حراست میں لے لیا گیا تھا۔

ان دونوں خواتین نے متعدد مرتبہ اپنی ضمانت کے لیے درخواست دائر کی تھی لیکن اس کو مسترد کردیا گیا تھا لیکن ہفتے کی شب ایک عدالت نے انھیں 1400 ڈالر فی کس کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

ایک بھارتی افسر نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ دونوں ملزمہ خواتین کو ضمانت پر تو رہا کردیا گیا ہے لیکن ہم اپنی تحقیقات جاری رکھیں گے۔بھارتی افسروں نے شاہین اسکول میں پانچ مرتبہ بچّوں سے پوچھ تاچھ کی ہے اور ان دونوں خواتین کے خلاف شواہد اکٹھے کیے ہیں۔

ناقدین نے اس واقعے کی بچّوں سے تحقیقات پر پولیس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس پر قانون کے غلط استعمال کا الزام عاید کیا ہے۔پولیس افسروں کی بچّوں سے پوچھ تاچھ کہ بعض ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی پوسٹ کی گئی ہیں۔ ان میں وہ نو سے گیارہ سال کی عمر کے بچّوں سے سوال وجواب کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ برطانوی دور کا غداری اور بغاوت کا قانون 1860ء میں نافذ کیا گیا تھا۔اس کے تحت اس سنگین جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے۔انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ حکام اس قانون کو ناقدین کو خاموش کرانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

بھارت میں مودی حکومت کے متعارف کردہ شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔اس قانون کے تحت تین پڑوسی ممالک سے بھارت آنے والے ہندو ، عیسائی اور دوسری اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو تو شہریت دے دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو شہریت نہیں دی جائے گی۔

اس قانون کے خلاف بھارت کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں میں کم سے کم تیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں دو ریاست کرناٹک میں مارے گئے تھے۔اس ریاست میں بی جے پی ہی کی حکومت قائم ہے۔