.

ایران: ایوین جیل میں قید خواتین کی آیندہ پارلیمانی انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں سیاسی قیدی خواتین نے اپنی ہم وطنوں سے اسی ہفتے ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ جو کوئی بھی ان انتخابات میں اپنا ووٹ ڈالے گا، وہ اس نظام اور اس کے جرائم ہی کی توثیق کرے گا۔

آیندہ جمعہ کو ہونےوالے پارلیمانی انتخابات میں کم ٹرن آؤٹ کے خدشے کے پیش نظر صدر حسن روحانی نے ایرانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے گھروں سے ضرور نکلیں۔

تہران کی بدنام زمانہ ایوین جیل میں قید بارہ سیاسی کارکن خواتین نے سوموار کو ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔اس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’ جو کوئی بھی ووٹ ڈالنے کے لیے جائے گا، وہ نظام کے ہاتھوں انقلابی نوجوانوں کی ہلاکتوں کے جرم کا شریک کار سمجھا جائے گا اور نظام اور اس کے جرائم کی توثیق کا مرتکب ہوگا۔‘‘

ان کا کہنا ہے:’’وہ گذشتہ اکتالیس سال کے دوران میں مطلق العنان رجیم کو ایک جمہوری نظام کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور ایسا لفظ انتخابات کے بار بار اعادے سے کیا جارہا ہے۔‘‘

اس مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ ایرانی پارلیمان کوئی جمہوری ادارہ نہیں ہے اور رجیم کی خدمت کے سوا اس کا کوئی کام نہیں ہے۔ایران میں انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا مقصد خواتین کے خلاف اخلاقی پولیس کو جوازعطا کرنا ہے۔اس کا مطلب جبرواستبداد کو بھی سندِ جواز دینا ہے۔‘‘

اس بیان پر دست خط کرنے والی خواتین کارکنان میں یاسمین الاریانی ،ندا اشتیانی ، راحلہ احمدی، مریم اکبری منفرد ، لیلیٰ حسین زادہ ، سہیلہ حجاب ، اتینا دائمی ، سفیدہ فرحان ، منیرہ عرب شاہی ، صبا کرد افشاری ، ندا ناجی اور سمانح نوروز مرادی شامل ہیں۔

اسی ماہ کے اوائل میں جیل میں قید ایک اور کارکن نرجس محمدی نے بھی ایرانیوں سے انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ گذشتہ سال نومبر میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے کارکنان کی تکریم میں ان انتخابات میں حق رائے دہی استعمال نہ کیا جائے۔