.

اسرائیل کو مٹانے کے لیے ابھی حالات مناسب نہیں : ایرانی پاسداران انقلاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق اسرائیل سے نمٹنے کے لیے اس وقت حالات مناسب نہیں ہیں۔

پاسداران کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی نے پیر کی شب ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ "اسرائیل کے خاتمے کے بڑے امکانات جنم لے چکے ہیں تاہم حالات ابھی تک سازگار نہیں ہیں"۔

سلامی کے مطابق اسرائیلی تو امریکیوں سے بہت چھوٹے ہیں، ان کو صرف ایران سے نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ ایرانی کمانڈر نے اس حوالے سے مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔

سابقہ تجربات سے اندازہ ہوتا ہے اسرائیل کو نشانہ بنانے کا عمل صرف تہران کے ہمنوا اور اس سے فنڈنگ حاصل کرنے والے گروپوں کی جانب سے کیا جا سکتا ہے۔ ان میں لبنانی تنظیم حزب اللہ شامل ہے۔ لبنان وہ ملک جو آج سنگین اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے ،،، اور سرکاری عہدے داران کی بدعنوانی اور ان کی معاشی پالیسیوں نے لبنانی عوام کو چراغ پا کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ 14 فروری کو اسرائیل نے شام میں دمشق کے ہوائی اڈے کے اطراف بعض ایرانی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کے نتیجے میں شامی صدر بشار کی فوج اور ایرانی پاسداران انقلاب کے 7 ارکان ہلاک ہو گئے۔ شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے سربراہ نے العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں سے گفتگو میں بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والوں میں شامی فوج کے 3 جنگجو اور ایرانی پاسداران انقلاب کے 4 افسران شامل ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے حوالے سے حسین سلامی کا کہنا تھا کہ "سلیمانی اور ابو مہدی المہندس (الحشد الشعبی کا نائب سربراہ) کے قتل کے حوالے سے ہمارا جواب ابھی تک ابتدائی مراحل میں ہے کیوں کہ ہمارے نزدیک نشانہ بنائے گئے اہداف دونوں مقتولین کی سطح کے نہیں ہیں"۔ سلامی کا اشارہ گذشتہ ماہ عراق میں فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کی جانب تھا۔ اس اڈے میں امریکی فوجی بھی موجود ہوتے ہیں۔ ایرانی کمانڈر نے مزید کہا کہ "امریکا کے خلاف مختلف صورتوں میں رد عمل کا سلسلہ جاری رہے گا"۔

قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس رواں سال تین جنوری کو علی الصبح بغداد کے ہوائی اڈے کے احاطے میں ہلاک کر دیے گئے تھے۔ ان کی گاڑی کو امریکی فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔