.

میونخ میں ایرانی وزیر خارجہ اور ڈیموکریٹک سینیٹر کے درمیان خفیہ ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

باخبر ذرائع کے مطابق امریکی ریاست Connecticut سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے خفیہ ملاقات کی۔ یہ ملاقات گذشتہ ہفتے میونخ سیکورٹی کانفرنس کے دوران ہوئی۔

انگریزی اخبار The Federalist کے مطابق مذکورہ سینیٹر کے دفتر نے اس موضوع کے حوالے سے میڈیا کے سوالات پر تبصرہ نہیں کیا۔ اخبار نے پیر کے روز اپنی رپورٹ میں بتایا کہ میونخ کانفرنس میں فرانسیسی وفد نے نام لیے بنا ایک ذریعے کے حوالے سے اس ملاقات کی تصدیق کی۔

اخبار کے مطابق اس طرح کی ملاقات کا مطلب یہ ہوا کہ کرس مرفی نے امریکی انتظامیہ کو سبوتاژ کرنے کے واسطے ایک غیر ملکی حکومت کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں کیں۔

یاد رہے کہ فروری 2017 میں کرس مرفی نے امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیک ویلن کے ساتھ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا کیوں کہ ویلن نے روس میں اپنے آنے والے ہم منصب سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا تھا۔

اُس موقع پر مرفی کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچانے والی کوئی بھی کوشش غیر قانونی ہے اور اسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ اس سے قبل مرفی نے باراک اوباما کے دور میں ڈیموکریٹس عہدے داران بالخصوص وزیر خارجہ جان کیری کی ایرانی ذمے داران کے ساتھ "خفیہ" ملاقاتوں کا دفاع کیا تھا۔

دوسری جانب ٹرمپ اور جارج ڈبلیو بش کی انتظامیاؤں میں امریکی وزارت خارجہ کے ایک سابق سینئر مشیر کرسٹین ویٹن نے متعلقہ وزارت سے علاحدہ رہ کر خارجہ ملاقاتوں پر تبصرے کرتے ہوئے کہا کہ "صدر یا وزیر خارجہ کی اجازت کے بغیر بیرون ملک کوئی بھی آزادانہ سیاسی ملاقات ہمارے دشمنوں کو ملے جلے اشارے دیتی ہے۔ یہ ہر گز اطمینان بخش نہیں ... اگر ہم ایرانیوں کے ساتھ بات چیت چاہتے ہیں تو انہیں معلوم ہے کہ وہ کون سا دروازہ کھٹکھٹائیں ، انہیں کسی وساطت کار کی ضرورت نہیں"۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک ذمے دار کا کہنا ہے کہ وزارت کو ایرانی عہدے داران کے ساتھ کسی جانبی ملاقات کا علم نہیں تھا جس میں کرس مرفی ملوث ہوں۔

میونخ سیکورٹی کانفرنس ایک بڑا عالمی ایونٹ تھا۔ یہاں کرس مرفی اور جواد ظریف نے مشرق وسطی پالیسی کے حوالے سے دو گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں اعلانیہ گفتگو کی۔ کرس مرفی اور جواد ظریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنائی گئی سخت گیر پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ پالیسی ایران کے حوالے سے سابق صدر باراک اوباما کی دوستانہ پالیسی کے برعکس ہے۔