یمنی حوثی ایرانی ساختہ پرزوں سے زیادہ مہلک ڈرونز بنا رہے ہیں: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران کے حمایت یافتہ یمن کے حوثی شیعہ باغی ایرانی ساختہ آلات کی مدد سے زیادہ مہلک ڈرون تیارکررہے ہیں۔اس بات کا انکشاف برطانیہ میں قائم تنظیم برائے کنفلیکٹ آرمامنٹ ریسرچ ( کار) (تنازعات اسلحہ تحقیق) نے بدھ کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں کیا ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یمن کے حوثی قبل ازیں غیر مسلح ڈرونز کو یمن میں عرب اتحادی فورسز پر حملوں کے لیے استعمال کرتے تھے۔ وہ ان بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں (یو اے وی) کو راڈار یونٹوں میں پھوڑتے تھے لیکن ان کی رینج بہت کم ہوتی تھی۔اب وہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے بغیر پائیلٹ طیاروں کو استعمال کررہے ہیں اور وہ دھماکا خیز مواد لے جانے کی صلاحیت کے بھی حامل ہیں۔

کار نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا نے ان ڈرونز کی تیاری کے لیے اپنی داخلی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے اور انھیں بیرونی ذرائع سے بھی زیادہ جدید پرزے مل رہے ہیں۔انھوں نے بظاہر2018ء میں ملک میں ایک طرح کے یو اے وی کے پرزہ جات تیار کرنا شروع کردیے تھے۔

اس تنظیم نے اپنی رپورٹ میں’’عمودی جائیرو اسکوپ‘‘ نامی ایک پرزے کا حوالہ دیا ہے۔یہ حوثیوں کے تیار کردہ ڈرون قاصف -1 میں لگایا گیاتھا۔ یو اے وی کی ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی عمودی جائرو اسکوپس ایران کے تیار کردہ بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے سوا کہیں اور مشاہدہ نہیں کی گئی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جائرو اسکوپس بالکل ایسی ہی ہیں جیسی سعودی حکام نے 14 ستمبر2019ء کو آرامکو کی ابقیق میں واقع ایک تنصیب پر حملے کے بعد جائے وقوع سے برآمد کی تھیں۔ گو ان کا ماڈل ایک ایسا نہیں ہے۔

سعودی عرب اور امریکا کے علاوہ بہت سے ممالک نے ایران پر آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کا الزام عاید کیا تھا لیکن حوثیوں نے ان حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی اور ایران نے ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی مگر تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ سعودی آرامکو کی تنصیبات پر شمال سے یعنی ایران کی سمت سے بیلسٹک میزائل داغے گئے تھے اور سعودی عرب کے جنوب میں واقع یمن کی سمت سے ڈرون اور میزائل حملے نہیں کیے گئے تھے۔

حوثی ملیشیا یمن کے شمالی علاقوں سے سعودی عرب کے جنوبی شہروں اور قصبوں کی جانب ڈرون حملے کررہی ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد یمن میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی قانونی حکومت کی حمایت میں حوثیوں کے خلاف جنگ آزما ہے۔

حوثی ملیشیا سعودی عرب اور عرب اتحادی افواج پر حملوں کے لیے مختلف اقسام کے ڈرون استعمال کررہی ہے۔ان میں قاصف -1، قاصف- 2 کے ، صمد –2اور صمد -3 شامل ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے صدارتی گارڈز نے یمن میں حوثیوں کے حملوں میں استعمال کیے گئے ڈرونز کے مختلف پرزے اور انجن تنظیم کار کو مہیا کیے تھے۔ ان کے تجزیے کے بعد اس تنظیم نے کہا ہے کہ ان ڈرون کی پہلی نسل قاصف-1 یمن میں ڈیزائن اور تیار نہیں کیے گئے ہیں بلکہ ایران میں تیار کردہ ہیں اور پھر یہ یمن میں حوثی ملیشیا کو اقساط میں مہیا کیے گئے تھے۔

کار نے بحرینی سکیورٹی فورسز نے ملک سے جنگجو گروپوں سے پکڑے گئے دھماکا خیز مواد اور بعض آلات کا بھی حوالہ دیا ہے۔یہ آلات اور دھماکا خیز مواد ایرانی ساختہ بتایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں