.

ایران:خامنہ ای کی انتخابات کے بعد پارلیمان پرگرفت مضبوط ہوگی؟ کم ٹرن آؤٹ متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں پارلیمانی انتخابات کے لیے جمعہ کو ووٹ ڈالے جارہے ہیں ۔ان کے نتیجے میں توقع ہے کہ رہبراعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی پارلیمان پر گرفت مضبوط ہوجائے گی۔

واشنگٹن میں قائم مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کی سینیر فیلو ایلکس وٹانکا نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ یہ سب ایک سیاسی تھیٹر ہے۔یہ انتخابات بالکل بے مقصد ہیں کیونکہ ایرانی نظام اس انداز میں استوار کیا گیا ہے کہ آپ اسی صورت میں انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں،جب آپ کے نام کی آیت اللہ علی خامنہ ای یا ان کے نمایندے منظوری دیں۔‘‘

واضح رہے کہ ایران کی شورائے نگہبان نے ہزاروں اصلاح پسند اور قدامت پسند امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے کا نااہل قراردے دیا ہے۔بارہ ارکان پر مشتمل یہ کونسل انتخابی امیدواروں کی اہلیت کا تعین کرتی ہے۔وہ ان کی اسلامی اصولوں کی پاسداری اور ولایت فقیہ کے نظام سے وفاداری کی جانچ کرتی ہے۔

شورائے نگہبان نے قریباً 7150 امیدواروں کو پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کا اہل قراردیا ہے۔سرکاری ٹی وی کے مطابق اس نے 14 ہزار سے زیادہ امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کی ہے۔موجودہ پارلیمان کے قریباً ایک تہائی ارکان کو دوبارہ انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایرانیوں پر زور دیا ہے کہ وہ پارلیمانی انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لیں۔ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق انھوں نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ ’’یہ مذہبی ، قومی اور انقلابی فریضہ ہے۔‘‘

مگر سابق صدر محمد خاتمی کے دور کے ایک سابق نائب وزیر مصطفیٰ تاج زادہ ان کی اپیل سے متاثر نہیں ہوئے۔ انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’وہ ان انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے کیوںکہ یہ غیر جانبداری کے بجائے خامنہ ای کی جانب سے پارلیمانی ارکان کے تقرر کا ایک موثر ذریعہ بن چکے ہیں۔‘‘

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابی امیدواروں کو تھوک کے حساب سے نااہل قرار دینے کے دو مقاصد ہوسکتے ہیں۔اوّل، صدر حسن روحانی اور ان کے اتحادی سبکدوش ہونے والے اسپیکر علی لاریجانی اور ان کے حامیوں کو کمزور کرنا، دوم، ایک ایسی وفادار پارلیمان کو منتخب کرانا جو2021ء میں ہونے والے آیندہ صدارتی انتخابات میں زیادہ کنٹرول کا ذریعہ بن سکے۔

ووٹر ٹرن آؤٹ

ایران کی کل آبادی آٹھ کروڑ 30 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ ان میں پانچ کروڑ 80 لاکھ کے لگ بھگ ووٹ دینے کے اہل ہیں۔ان کی عمریں 18 سال یا اس سے زیادہ ہیں۔ تجزیہ کاروں کے بہ قول پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح کم رہنے کا امکان ہے۔

ایرانی پارلیمان نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کسی امیدوار کے حق میں کم سے کم ووٹ ڈالنے کی شرح 25 فی صد سے کم کرکے 20 فی صد کر دی ہے۔ووٹ ڈالنے کی شرح کم رہنے کا ایک اور سبب بھی بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ امریکا کی ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کے بعد سے ووٹر بالخصوص نظام سے نالاں ہیں اور وہ اس کو اپنے روزمرہ مسائل کا ذمے دار قرار دے رہے ہیں مگر اس سب کے باوجود حقیقی نتائج کو ملحوظ رکھے بغیرایرانی نظام ہی اپنی فتح کا دعویٰ کرے گا اور کامیاب ٹھہرے گا ۔