.

شاہ سلمان سے امریکی وزیرخارجہ کی ملاقات،دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے جمعرات کے روز الریاض میں سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان عبدالعزیز سے ملاقات کی ہے اور ان سے دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔مائیک پومپیو بدھ کی شام سعودی عرب کے تین روزہ سرکاری دورے پر الریاض پہنچے تھے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق انھوں نے سعودی عرب اور امریکا کے درمیان شاندار دوطرفہ تعلقات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے اور علاقائی اور بین الاقوامی امور کے حوالے سے دونوں ملکوں کے مؤقف کا جائزہ لیا ہے۔

مائیک پومپیو نے الریاض میں واشنگٹن میں متعیّن سعودی سفیر شہزادی ریما بنت بندر کی رہائش گاہ پر مملکت کی کاروباری خواتین کی لیڈروں سے بھی ملاقات کی ہے۔

سعودی ائیربیس کا دورہ

مائیک پومپیو شاہی محل میں شاہ سلمان سے ملاقات کے بعد سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ائیربیس پر گئے۔انھوں نے وہاں تعینات امریکی فوجیوں سے ملاقات کی ہے۔ اس ائیربیس پر ایران سے درپیش خطرے سے نمٹنے کے لیے قریباً ڈھائی ہزار امریکی فوجیوں کو گذشتہ سال تعینات کیا گیا تھا۔

اس ائیر بیس پر امریکی فضائیہ کا ایف 15 ای لڑاکا جیٹ کا ایک اسکوارڈن بھی موجود ہے۔یہ لڑاکا طیارے روزانہ عراق اور شام پر پروازیں کرتے ہیں۔اس فوجی اڈے پر امریکا کے پیٹریاٹ میزائلوں کی دو بیٹریاں بھی نصب کی گئی ہیں اور وہ سعودی مملکت پر ایران کے کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

امریکا نے گذشتہ سال ستمبر میں سعودی آرامکو کی تیل کی دو تنصیبات پر حملوں کے بعد اکتوبر میں تین ہزار اضافی امریکی فوجیوں اور فوجی آلات کو سعودی عرب میں بھیجنے کی منظوری دی تھی۔سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کے بعد ان امریکی فوجیوں کی آمد سے مملکت کے دفاع کو تقویت ملی ہے۔

تب پینٹاگان کے ایک بیان کے مطابق وزیر دفاع مارک ایسپر نے سعودی عرب میں دو مزید پیٹریاٹ میزائل بیٹریوں اور ایک تھاڈ بیلسٹک میزائل دفاعی نظام کی تنصیب ،دو لڑاکا اسکواڈرن اور فضائیہ کے ایک ونگ کو بھیجنے کی منظوری دی تھی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور امریکا کے علاوہ بہت سے ممالک نے ایران پر آرامکو کی دو تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا الزام عاید کیا تھا جبکہ حوثیوں نے ان حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور ایران نے ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی مگر تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ سعودی آرامکو کی تنصیبات پر شمال سے یعنی ایران کی سمت سے بیلسٹک میزائل داغے گئے تھے اور سعودی عرب کے جنوب میں واقع یمن کی سمت سے ڈرون اور میزائل حملے نہیں کیے گئے تھے۔