.

الریاض:جی20 کے وزرائے خزانہ کا اجلاس ، عالمی معیشت اورکرونا وائرس کے بحران پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں جی 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بنکوں کے گورنروں کا ہفتے کو دوروزہ اجلاس شروع ہوگیا ہے۔وہ عالمی معیشت کے مختلف پہلوؤں اور چین میں پھیلنے والے مہلک کرونا وائرس کے بحران اور اس کے عالمی معیشت پر اثرات کے بارے میں تبادلہ خیال کررہے ہیں۔

دنیا کی بیس بڑی معیشتوں کے مالیاتی لیڈر اس اجلاس میں ڈیجیٹل دور میں ٹیکسوں کے منصفانہ عالمی نظام کو وضع کرنے پر بھی غور کررہے ہیں۔وہ معاشی ترقی کی نشوونما اور کرونا وائرس سے درپیش خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک لائحہ عمل کوحتمی شکل دیں گے۔

گروپ کے منتظمین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ وزرائے خزانہ سعودی عرب کی جی 20 کی صدارت کے لیے اس سال کے موضوع ’’اکیسویں صدی میں سب کے لیے مواقع کو حقیقت کا روپ دینے‘‘ کے تحت ترجیحات پر تبادلہ خیال کریں گے اور معیشت کو ڈیجیٹل بنانے سے ٹیکسوں سے متعلق پیدا ہونے والے چیلنجز پر تبادلہ خیال کریں گے۔‘‘

وزرائے خزانہ کے اس اجلاس کی صدارت سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان اور مرکزی بنک کے گورنر احمد الخلیفی کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب جی 20 کا پہلا عرب صدر ملک ہے اور اس سال 21 اور22 نومبر کو وہ اس گروپ کے سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ اس سے قبل سعودی عرب میں اس گروپ کے رکن ممالک کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے قریباً ایک سو اجلاس منعقد ہوں گے۔وزرائے خزانہ اور گورنروں کا یہ اجلاس بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

دریں اثناء عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹلینا جارجیفا نے کہا ہے کہ چین میں پھیلنے والے مہلک کرونا وائرس کے اثرات مختلف مدت کے لیے ہوسکتے ہیں لیکن یہ وبا ایسے وقت میں پھیلی ہے جب عالمی معیشت پہلے ہی غیر یقینی کی صورت حال سے دوچار ہے۔

انھوں نے جمعہ کو الریاض میں ایک تقریب میں کہا کہ اس کے اقتصادی اثرات کو ’’وی شکل‘‘ میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ چین کی مجموعی قومی پیداوار( جی ڈی پی) کی تیزی سے بحالی ہوئی تھی لیکن اس کے بعد اس میں پھر تنزل آیا ہے۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے اثرات مزید پھیلتے ہیں تو اس کے دوسرے ممالک کے لیے سنگین مضمرات ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس مہلک وائرس سے چین میں اب تک 2345 افراد مارے جاچکے ہیں۔سب سے متاثرہ شہر ووہان کے زمینی اور فضائی رابطے منقطع ہیں اور بہت سے کاروباروں کے دروازے بند ہوچکے ہیں۔

اس بحران کے پیش نظر چین نے الریاض میں وزرائے خزانہ کے اجلاس میں اپنا کوئی عہدے دارنہ بھیجنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس میں الریاض میں متعیّن چینی سفیر کی قیادت میں ایک چھوٹا وفد شرکت کرے گا۔

امریکی محکمہ خزانہ کے ایک سینیر عہدے دار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم وائرس پھیلنے کے بعد صورت حال کا باریک بینی سے مشاہدہ لے رہے ہیں اور اس کے اقتصادی شرح نمو پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔‘‘

اس عہدہ دار کا کہنا تھا:’’ ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ (گروپ 20) کے وزراء اور گورنر عالمی معیشت کے خدوخال پر تبادلہ خیال کریں گے، بالخصوص اس کا تعلق اب کرونا وائرس کے پھیلنے سے بھی ہوگیا ہے۔‘‘