.

ایران کے ساحلی محافظوں نے خلیج عُمان میں تیل بردار جہاز پکڑ لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے کوسٹ گارڈ نے خلیج عُمان میں تیل کی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والے ایک غیرملکی جہاز کو پکڑ لیا ہے۔

ایران کے جنوبی صوبہ ہرمزگان میں کوسٹ گارڈ کے سربراہ حسین دہقی نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز اس جہاز کو پکڑنے کے بعد جاسک کی بندرگاہ پر لے جایا گیا ہے۔انھوں نے مزید کہا ہے کہ اس جہاز کے عملہ کے تیرہ ارکان کو تیل اسمگل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انھوں نے جہاز کی ملکیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے کہ یہ کس ملک سے تعلق رکھتا ہے اور نہ بتایا ہے کہ یہ کہاں جارہا تھا اور اس کے عملہ کا کس ملک سے تعلق ہے۔

گذشتہ سال موسم گرما میں خلیج عرب میں تیل بردار اور مال بردار جہازوں پر حملوں کے بعد سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔متحدہ عرب امارات کی ساحلی حدود میں بھی گذشتہ سال پانچ تیل بردار جہازوں کوتخریبی حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

امریکا نے ایران پر ان حملوں کا الزام عاید کیا تھا لیکن اس نے توانائی کے عالمی انفرااسٹرکچر پر حملوں میں ملوّث ہونے کی تردید کی تھی۔ خلیج عرب میں تیل بردار بحری جہازوں کے علاوہ گذشتہ سال ستمبر میں سعودی آرامکو کی تیل کی تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے تھے۔سعودی عرب اور امریکا نے ایران ہی کو ان حملوں کا مورد الزام ٹھہرایا تھا۔

13فروری کو امریکی بحریہ کے ایک جہاز نے خلیج عرب میں ایرانی ساختہ ڈیڑھ سو ٹینک شکن گائیڈڈ میزائلوں کو پکڑا تھا۔اس نے خطے میں سکیورٹی آپریشن کے دوران میں یہ میزائل قبضے میں لیے تھے۔