.

نیجر: فوجی آپریشن میں 120 دہشت گرد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقا کے ملک نیجر میں وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے جنوب مغرب میں فرانسیسی فورسز کے ساتھ ایک مشترکہ آپریشن کے دوران 120 "دہشت گردوں" کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس دوران گاڑیاں اور دھماکا خیز مواد پر مشتمل آلات تیار کرنے کا سامان قبضے میں لے لیا گیا۔

جمعے کے روز جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ آپریشن 20 فروری کو شروع کیا گیا تھا۔ اس دوران مالی اور بورکینا فاسو کے ساتھ سرحد کے نزدیک واقع علاقے ٹیلابیری میں "120 دہشت گردوں کا تعین" کیا گیا۔ بیان کے مطابق آپریشن میں نیجر یا فرانس کا کوئی فوجی زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔

ادھر نیجر کے وزیر دفاع ایسوفو کاٹامبے نے دہشت گردی کے خلاف معرکے میں تعاون کو سراہا۔

اس سے قبل ٹیلابیری کے شورش زدہ علاقے میں حکام نے سیکورٹی اقدامات سخت کر دیے۔ اس دوران بازاروں کو بند کر دیا گیا اور موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ یہ پیش رفت گذشتہ برس دسمبر اور رواں برس جنوری میں دہشت گرد جماعتوں کے حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ مذکورہ حملوں کے نتیجے میں نیجر کے 174 فوجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ٹیلابیری کے علاوے میں دو سال سے ایمرجنسی نافذ ہے۔

نیجر میں 2015 سے شدت پسندوں کے حملوں کے خلاف مزاحمت جاری ہے۔ یہ حملے مالی اور بورکینا فاسو کی سرحد کے نزدیک دیکھنے میں آئے۔ اس کے نتیجے میں ٹیلابیری اور ٹاہوا کے علاقوں میں صورت حال ابتر ہو گئی جہاں سے تقریبا 78 ہزار افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔

فرانس رواں سال اعلان کر چکا ہے کہ وہ افریقا کے مغربی حصے کے علاقوں میں اپنا عسکری وجود مضبوط بنانے کے لیے مزید 600 فوجی بھیجے گا۔ یہ افراد اُن 4500 فوجیوں کے ساتھ شامل ہو جائیں گے جو اس وقت وہاں فوجی آپریشن میں مصروف ہیں۔