روس اور ایران پر لازم ہے کہ شام میں شہریوں کو تحفظ فراہم کریں : امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹاگوس نے شام کے صوبے ادلب میں انسانی صورت حال کو قابلِ تنفّر قرار دیا ہے۔ انہوں نے روس اور ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ شامی شہریوں کو تحفظ فراہم کریں۔ ترجمان کے مطابق شامی بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اورٹاگوس کا کہنا تھا کہ "جی ہاں، جو کچھ روس، ایران اور بشار حکومت کر رہی ہے یہ نہایت قابلِ تنفر امر ہے۔ جو کچھ ادلب میں ہو رہا ہے اس وقت کرہ ارض پر اس سے زیادہ تنفّر آمیز کوئی چیز نہیں۔ ہم نے اقوام متحدہ کے ذریعے کام جاری رکھا ہوا ہے۔ ہمارے ایلچی جیفری ترکی میں تھے۔ ترکی ایک بار پھر لڑائی پر لوٹ آیا ہے۔ روس بھی اسی پر عمل پیرا ہے۔ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ باعث ننگ و عار ہے اور ظلمت و تاریکی کا نقطہ ہے"۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان کے مطابق "ہم کئی برس سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اس تنازع کو عسکری طور پر حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ ہمیں اس سلسلے میں سیاسی فیصلے کی ضرورت ہے۔ تاہم یہ واضح ہے کہ روس اور دیگر فریق اس جنگ کا کے عسکری اختتام کی کوشش کر رہے ہیں ، جیسا کہ میں نے کہا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ دنیا میں ایک بدترین انسانی بحران ہے"۔

مورگن اورٹاگوس نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ تاریخی اور امتیازی حیثیت کے تعلقات ہیں۔ وہ امریکا کے لیے ایک اہم تزویراتی شراکت دار ہے۔

اورٹاگوس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے سعودی عرب کے دورے کے دوران علاقائی امن کے متعلق امور پر بات چیت کی۔

امریکی ترجمان نے زور دے کر کہا کہ عراق میں ہم پر کسی بھی حملے کی ذمے داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ واشنگٹن عراقی ملیشیاؤں کو بغداد میں گرین زون پر حملے سے روکے گا۔

اورٹاگوس نے عراق کے نامزد وزیراعظم پر زور دیا کہ وہ اپنی حکومت کی تشکیل میں کردوں اور سنیوں کو شامل کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں