8سعودیوں کوایران کے لیے جاسوسی اورسفارت خانوں کی معلومات دینے پرموت اور قید کی سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی ایک سکیورٹی عدالت نے آٹھ سعودی شہریوں کو ایران کے لیے جاسوسی اور الریاض میں دو غیرملکی سفارت خانوں کی نگرانی کے جُرم میں قصور وار قرار دے کر موت اور قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

سعودی عرب کی اسٹیٹ سکیورٹی عدالت نے جاسوسی کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر ایک شخص کو موت اور سات کو قید کی سزاؤں کا حکم دیا ہے۔

سزائے موت پانے والے مجرم نے سعودی عرب کی قومی سلامتی سے متعلق ایرانی انٹیلی جنس کو خفیہ معلومات فراہم کی تھیں۔اس کے علاوہ اس نے دو غیرملکی سفارت خانوں کے داخلی دروازوں ، اخراج اور سکیورٹی کی موجودگی سے متعلق معلومات فراہم کی تھیں۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ یہ کن ممالک کے سفارت خانے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری میں ایران پر الزام عاید کیا تھا کہ اس نے بغداد میں امریکی سفارت خانے کو حملے میں نشانہ بنایا تھا اور اس نے تین جنوری کو بغداد میں القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد چار امریکی سفارت خانوں پر حملوں کی سازش بھی کی تھی۔

قید کی سزا پانے والے بعض مجرموں نے ایران کو سعودی عرب کے داخلی امور اور معیشت سے متعلق معلومات فراہم کی تھیں۔انھیں ان کی ان خدمات پر مالی فائدہ دیا گیا تھا۔

عدالت نے سزائے قید پانے والے مجرموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تیس دن کے اندر فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں۔اس کے بعد ان کی باضابطہ سزا کا آغاز ہوجائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں