.

ایرانی میزائل پروگرام میں معاونت، چین، ترکی، روس اور عراق کے ادارے بلیک لسٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے ایرانی میزائل پروگرام میں مدد فراہم کرنے والے 13 غیرملکی ادارے بلیک لسٹ کردیے ہیں۔ ان میں چین، عراق، روس اور ترکی کے ادارے اور افراد شامل ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ بلیک لسٹ کیے جانے والے اداروں اور شخصیات میں چین اور ترکی کی پانچ کمپنیاں یا افراد شامل ہیں۔

سنہ 2015 میں امریکا نے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین طے پائے جانے والے جوہری معاہدے سے علاحدگی اختیار کرلی تھی۔ اس کے بعد امریکا کی طرف سے ایرانی رجیم پر پابندیاں عاید کرنے کے ساتھ اس کے میزائل پروگرام میں معاونت کرنے والوں کو بھی بہ تدریج پابندیوں کا سامنا ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے تسلیم کیا ہے کہ امریکا کی طرف سے ان کے ملک کو غیر مسبوق پابندیوں کا سامنا ہے، تاہم پاسداران انقلاب کی قیادت امریکا کی طرف سے عاید کردہ پابندیوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی۔ لیکن صدر حسن روحانی نے تسلیم کیا ہے کہ ایران کے پاس امریکی پابندیوں سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ امریکی صدر کے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد سال 2018 میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات میں گہرا بحران پیدا ہو گیا تھا۔

تین جنوری 2020ء کو امریکا نے عراق میں ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی سمیت متعدد عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا تو دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف جنگ کےدھانے پر آگئے تھے۔