پناہ گزینوں کے لیے یورپ کے دروازے کھولنے کا وقت آن پہنچا: ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم پناہ گزینوں کے روکے گئے سیلاب کو یورپ کے لیے کھول دیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دارالحکومت انقرہ میں اعلیٰ فوجی حکام پر مشتمل اجلاس کے بعد صدر طیب ایردوآن نے کہاکہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہم شامی مہاجرین کو خشکی اور سمندر کے راستے یورپ جانے سے نہیں روکیں گے۔

ایک سینیر ترک عہدیدار نے بتایا کہ صدر ایردوآن نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب شام کے علاقے ادلب میں 34 ترک فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

سینیر ترک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کے ملک نے شامی مہاجرین کو یورپ پہنچنے سے نہ روکنے کا فیصلہ کیا ہے ، خواہ وہ زمین کے ذریعے ہو یا سمندر کے ذریعے۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ ترک پولیس ، کوسٹ گارڈ اور بارڈر سیکیورٹی فورسز کو مہاجرین کو یورپ جانے سے نہ روکنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

ادھر سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ترکی میں ٹویٹر، فیس بک اور یوٹیوب کو بند کردیا گیا ہے۔ یہ بندش شام کے محاذ پر تین درجن ترک فوجیوں کی ہلاکت کےبعد عمل میں لائی گئی ہے۔

شام کے ادلب صوبے میں تناؤ میں اضافہ ہونے کے تناظر میں ترکی کے وزیر خارجہ مولود اوغلو نے جمعرات کے روز شمالی اوقیانوس کے ممالک کی فوجی تنظیم 'نیٹو' کے سکریٹری جنرل سے ٹیلیفون پر بات چیت کی اور انہیں تازہ صورت حال سے آگاہ کیا۔
ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر خارجہ مولود اوگلو نے نیٹو کے سکریٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ سے فون پر بات چیت کی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ شام کے آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس نے جمعرات کے روز تصدیق کی ہے کہ شمالی شام میں البارہ اور ایک بلینو کے درمیان علاقے میں ہونے والے فضائی حملے میں کم از کم 34 ترک فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ شام میں فوجیں داخل کرنے کے بعد ترکی کا یہ اب تک کا سب سے بڑا جانی نقصان ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں