.

ایرانی رجیم کرونا سے متعلق حقائق اور اعداد وشمار چھپا رہی ہے: فرانسیسی اخبار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے ایک کثیرالاشاعت اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت ملک میں پھیلنے والے 'کرونا' وائرس کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان اور وائرس سے متاثرہ افراد کی اصل تعداد کو دنیا سے چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔

فرانسیسی خبار'لیبراسیون' نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ایران نے کرونا وائرس کے نتیجے میں 43 افراد کی موت کی تصدیق کی ہے ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس عارضے کا شکار ہوچکے ہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ ایرانی حکومت کرونا کے متاثرین کی اصل تعداد کے حوالے سے اپنی قوم اور پوری دنیا کو گمراہ کر رہی ہے۔

اخباری رپورٹ کے مطابق ایرانی دارالحکومت اپنی 10 ملین آبادی کے اعتبار سے ایک گنجان آباد شہر ہے جہاں پر فضائی آلودگی کی شرح بہت زیادہ ہے اور سکولوں کو بھی بند کردیا گیا ہے۔

جمعہ کی ہفتہ وار تعطیل کے بعد ہفتہ ایران میں پہلا کاروباری دن ہوتا ہے۔ کل ہفتے کے روز بڑی تعداد میں لوگوں کو ماسک پہنے دفاتر جاتے دیکھا گیا۔ اگرچہ انہوں نے کرونا سے بچنے کے لیے ماسک پہن رکھے تھے مگر فضائی آلودگی سے بچانے کا ان کے پاس کوئی حفاظتی ذریعہ نہیں تھا۔ ہر ایک دفتر میں دوسرے کو ہاتھ ملاتا ہے۔ ایسا کرنے سے کرونا وائرس وسیع پیمانے پر پھیل سکتا ہے۔

خیال رہے کہ چند ماہ قبل چین میں سامنے آنے والے کرونا وائرس کے نتیجے میں کئی ممالک اس وقت اس وائرس کی لپیٹ میں ہیں مگر ایران چین کے بعد دوسرا بڑا ملک ہے جہاں کرونا سے ہونے والی ہلاکتیں سب سے زیادہ ہیں۔

دو روز قبل بی بی سی فارسی سروس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایران میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد دو سو سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ ہزاروں کی تعداد میں متاثرین اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ بی بی سی نے بھی ایران پر الزام لگایا کہ وہ کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کو چھپا رہا ہے۔