.

ترکی سے مہاجرین کی نئی لہر باعث تشویش ہے: یورپی یونین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین نے ترکی کی سرحدوں سے پناہ گزینوں کی یورپ کی جانب آمد پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یورپی ہائی کمیشن کی خاتون سربراہ اروسولا وان ڈیر لین نے ہفتے کے روز کہا کہ یورپی یونین نے ترکی سے نقل مکانی کرنے والوں کی یونان اور بلغاریہ کی طرف آمد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے ٹویٹر پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا کہ اس موقع پر ہماری اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ ہم یونان اور بلغاریہ کو اپنا پورا تعاون دیں۔

خیال رہے کہ ترکی نے شامی مہاجرین کے لیے یورپ جانے کی خاطرہ اپنی سرحدیں کھول دی ہیں جس کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں کو یورپی ملکوں کی طرف بڑھتے دیکھا جا رہا ہے۔

ادھر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ترکی نے نہ صرف اپنی سرحدیں پناہ گزینوں کو یورپ جانے کے لیے کھول دی ہیں بلکہ مہاجرین کو یونان کی سرحد تک پہنچنے کے لیے ٹرانسپورٹ بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

گذشتہ روز یونانی سرحدی فورسز نے سیکڑوں تارکین وطن کو ملک میں داخل ہونے سے روکا۔ ترکی کی سرحد پر شامی تارکین وطن اور یونانی سیکیورٹی کے مابین جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ترک پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مہاجرین کو بیرون ملک جانےسے نہیں روکے گی۔

اس سے قبل ایک سینیر ترک عہدیدار نے کہا تھا کہ انقرہ اب شامی مہاجرین کو یورپ پہنچنے سے نہیں روکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کے علاقے ادلب میں 33 ترک فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ترکی مہاجرین کے سیلاب کو یورپ جانے سے نہیں روکے گا۔