.

روس اور ترکی شام میں فوراً لڑائی روک دیں: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے روس اور ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے علاقے ادلب میں جاری لڑائی روک دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ادلب میں جاری لڑائی نے بد ترین انسانی المیے کو جنم دیا ہے اور یہ صورت حال شامی حکومت کے اتحادیوں اور مخالفین کے درمیان جاری جنگ کا نتیجہ ہے۔

فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے یہ مطالبہ کل ہفتے کے روز اپنے روسی اور ترک ہم منصوبوں ولادی میر پوتین اور رجب طیب ایردوآن سے ٹیلیفون پر بات چیت میں کیا۔

فرانسیسی ایوان صدر کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر میکروں نے روسی صدر ولادی میر پوتین اور ترکی کے طیب ایردوآن سے ٹیلیفون پر بات چیت کی اور ان دونوں رہ نمائوں سے شام میں جاری لڑائی روکنے کا مطالبہ کیا۔

ان کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "جمہوریہ کے صدر نے ترکی اور روس پر زور دیا کہ وہ شام میں ایسا ہی جنگ بندی معاہدہ کریں جیسا کہ سنہ 2018ء میں جرمنی اور جاپان نے شام کے حوالے سے دوسرے ملکوں بالخصوص ترکی اور روس کے ساتھ کیا تھا۔

فرانسیسی صدر نے شام میں ترک فوجیوں کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انقرہ پر زور دیا کہ وہ مہاجرین کی یورپ کی طرف آنے والی نئی لہر کو روکنے کے لیے یورپی ممالک کے ساتھ تعاون کریں۔

ادھر شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والی شامی آبزرویٹری کے مطابق شام میں ترکی کے نئے فضائی حملوں میں بشارالاسد کی فوج کے 26 اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

شام میں ترکی کی طرف سے یہ تازہ بمباری ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب دوسری طرف ترک صدر طیب ایردوآن نے روس سے کہا ہے کہ وہ شام میں ترکی کے راستے سے ہٹ جائے۔

شامی فوج نے اپنے اتحادی روس کی مدد سے گذشتہ برس دسمبر میں ادلب اور اطراف کے علاقوں میں النصرہ فرنٹ اور دیگر عسکری گروپوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ ادلب صوبے کا تقریبا نصف، حماۃ، حلب اور اللاذقیہ جیسے شہروں پر بھی النصرہ فرنٹ کا کنٹرول بتایا جاتا ہے۔ ماضی میں یہ گروپ القاعدہ کا حصہ رہ چکا ہے۔