.

مشرقِ اوسط اورشمالی افریقا میں کرونا وائرس سے 1600 سے زیادہ افراد متاثر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا ( مینا) کے خطے میں کرونا وائرس مسلسل پھیل رہا ہے اور اس خطے کے ممالک میں اب تک سولہ سو سے زیادہ افراد اس مہلک وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔

کرونا وائرس دسمبر کے آخر میں چین کے وسطی شہر ووہان سے دنیا کے دوسرے ممالک میں پھیلا ہے۔چین سمیت دنیا بھرمیں اس وائرس سے تین ہزار سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں اور90 ہزار سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ان میں ساڑھے 42 ہزار مکمل طور پر صحت یاب ہوچکے ہیں۔چین کے بعد ایران کرونا وائرس سے متاثر دوسرا بڑا ملک ہے۔اس کی حکومت نے منگل تک اس مہلک وائرس سے 66 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

ایران اور چین سے دوسرے ممالک کو لوٹنے والے مسافروں سے اب کرونا وائرس خطے بھر میں پھیل رہا ہے۔متحدہ عرب امارات میں 29 جنوری کو کرونا وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص ہوئی تھی۔اس کے بعد پانچ چینی سیاح اس کا شکار ہوئے تھے اور یہ پانچوں ووہان سے یو اے ای میں آئے تھے۔یو اے ای نے اب تک اس مہلک وائرس کے 21 کیسوں کی تصدیق کی ہے۔

فروری کے آخر میں خطے کے ملکوں میں تیزی سے یہ مہلک وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا اور ایران سے کویت ، عراق اور بحرین میں واپس آنے والے افراد اس مہلک وائرس سے لاحق ہونے والے مرض میں مبتلا پائے گئے ہیں۔

ایران اب وبائی شکل اختیار کرنے والے اس مہلک وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے سخت جدوجہد کررہا ہے۔ایران کے متعدد سیاست دان اور عہدے دار بھی اس سے بیمار پڑ چکے ہیں اور سوموار کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک مشیر اس وائرس کا شکار ہوکر جان کی بازی ہار گئے تھے۔

شام میں کرونا وائرس کا کوئی کیس ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔البتہ شامی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے جنگ زدہ ملک میں اس مہلک وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے تیاری شروع کررکھی ہے۔

سعودی عرب میں بھی کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔البتہ سعودی عرب نے گذشتہ جمعرات کو عمرہ پرآنے والے زائرین کے مکہ مکرمہ میں داخلے پر عارضی طور پر پابندی عاید کردی تھی۔ سعودی وزارت حج اور عمرہ کے ترجمان کے مطابق اس فیصلہ کے بعد عمرے کی غرض سے آنے والے ایک لاکھ سے زیادہ افراد مملکت سے واپس چلے گئے ہیں۔

مینا کے خطے میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد خلیج کی اسٹاک مارکیٹیں گر گئی ہیں اور بالخصوص شہری ہوابازی کی صنعت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ خطے کے ممالک کی بڑی فضائی کمپنیوں نے چین اور ایران کے لیے اپنی کئی ایک پروازیں معطل کردی ہیں۔