.

کرونا وائرس کے باوجود مصری خاتون وزیر صحت کا دورہ چین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد بیرون ملک سے وفود اور عالمی شخصیات کی چین آمد تقریبا بند ہوگئی ہے۔ اس کے باوجود چین کی خاتون وزیر صحت ڈاکٹر ہالہ زاید ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد کے ہمراہ کل اتوار کو بیجنگ روانہ ہوگئیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بیجنگ روانگی سے قبل قاہرہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ھالہ نے کہا کہ میں صدر عبدالفتاح السیسی کی طرف سے چینی قوم کے لیے ایک تحفہ لےکر جا رہی ہوں۔ اس موقعے پر مصر میں چین کے سفیر بھی موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ چین ہمارا دوست ملک ہے۔آج چین مشکل میں ہے اور ہم چین کی اس مشکل سے نکلنے میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ مصر چین کے لیے انسانی بنیادوں پر جو کچھ کرسکتا ہے وہ ضرور کرے گا۔

خاتون وزیر نے بتایا کہ مصر نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ مصر اور عالمی ادارہ صحت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی ہے اور اب بہ تدریج صورت حال بہتر ہو رہی ہے۔

ڈاکٹر ھالہ زاید نے انکشاف کیا کہ مصر میں 1443 افراد کو کرونا سے ملتی جلتی علامات ظاہر ہونے کے بعد اسپتالوں میں داخل کردیاگیا ہے تاہم ان کے مکمل طبی معائنے کے بعد ہی یہ معلوم ہوسکے گا کہ آیا وہ کرونا وائرس سے متاثر ہیں یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر السیسی نے اتوار کے روز کرونا وائرس سے نمٹنے کے احتیاطی منصوبوں پر ایک اجلاس منعقد کیا اور تمام احتیاطی اقدامات اٹھانے کے لیے سخت صدارتی ہدایات موجود ہیں۔

مصر میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے جان جبور نے ہفتے کے روزایک پریس بیان میں کہا تھا کہ مصری حکام کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پیشہ وارانہ طریقے سے کام کر رہے ہیں۔