.

ایردوآن اپنی ناراضی کے اظہار کے لیے پناہ گزینوں کو استعمال نہ کریں : جرمن چانسلر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کی چانسلر اینگلا میرکل نے ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ناراضی کے اظہار کے لیے پناہ گزینوں کا استحصال نہ کریں۔

پیر کی شب میرکل کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کو سمجھتی ہیں کہ ترکی کے صدر پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے سلسلے میں یورپ سے زیادہ بڑی مدد کی توقعات رکھتے ہیں ،،، تاہم ایردوآن کا اس مسئلے کے ساتھ معاملہ قابل قبول نہیں۔ جرمن چانسلر کے مطابق یہ درست ہے کہ ترکی کو ادلب کے حوالے سے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے مگر یورپی یونین کے ساتھ بات چیت میں اس طرح ناراضی کا اظہار اور پناہ گزینوں کے معاملے کا استحصال کسی طور قبول نہیں کیا جا سکتا ... یہ آگے بڑھنے کا طریقہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین اور ترکی کے درمیان پناہ گزینوں سے متعلق معاہدے کے حوالے سے فریقین کے بیچ بات چیت دوبارہ شروع ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کی مدد کے لیے جرمنی کے دروازے کھلے ہیں۔

یاد رہے کہ اتوار کے روز سے دس ہزار سے زیادہ مہاجرین یونان اور بلغاریہ کے ساتھ ترکی کی زمینی سرحد پر پہنچ گئے۔ ان میں زیادہ تعداد شام اور مشرق وسطی کے دیگر ممالک کے علاوہ افغانستان کے شہریوں کی ہے۔ انقرہ حکومت نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ ان مہاجرین کے لیے یورپ کی سمت اپنی سرحد کھول دے گی۔

ترکی کی جانب سے سرحد کھولنے کے موقف کے سبب جنم لینے والی کشیدگی پر بات چیت کے لیے یورپی یونین کے وزراء داخلہ کا ایک خصوصی اجلاس کل بدھ کے روز متوقع ہے۔ اس سلسلے میں دو ذمے داران کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز اس اجلاس کا مقصد یورپی یونین کی خارجہ سرحدوں کی پہرے داری کے مشن میں یونان اور بلغاریہ کو سپورٹ پیش کرنا ہے۔

واضح رہے کہ رجب طیب ایردوآن پناہ گزینوں کے کارڈ کا دباؤ ڈال کر یورپ سے مزید سپورٹ حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ سپورٹ مالی امداد کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے یا شام میں ترکی کے سیاسی موقف کی حمایت کی شکل میں جہاں ترکی کی فوج کو شامی صدر بشار الاسد کی فوج کے خلاف گھمسان کی لڑائی کا سامنا ہے۔

رواں ہفتے کے اختتام پر ہزاروں مہاجرین ترکی سے یونان کی سرحد پر پہنچ گئے۔ ایتھنز کی جانب سے بھیجی گئی سیکورٹی فورسز نے اس ریلے کو سرحد پر ہی روک دیا۔ یونان کی حکومت نے ترکی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مہاجرین کے ریلے کو منظم طور سے سرحد کی جانب بھیج رہا ہے۔

اس صورت حال نے یورپ کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یورپ کو 2015 جیسے مہاجرین کے بحران کا سامنا کرنے کا اندیشہ ہے۔ جرمنی میں بھی اس حوالے سے اندیشوں نے گھر کیا ہوا ہے ۔ جرمنی نے 2015 اور 2016 کے درمیان دس لاکھ سے زیادہ مہاجرین کا استقبال کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں