.

کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے عمرہ پر پابندی ایسے اقدامات عارضی ہیں: سعودی کابینہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارتی کونسل نے واضح کیا ہے کہ مہلک کرونا وائرس سے بچاؤ اور اس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حفظِ ماتقدم کے طور پر کیے گئے اقدامات عارضی ہیں اور ان کا مقصد شہریوں، مکینوں اور مکہ مکرمہ میں عمرہ اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی غرض سے آنے والے تمام زائرین کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

سعودی وزارت کونسل نے منگل کے روز شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے زیر صدارت اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ’’یہ اقدامات تمام شہریوں ، مکینوں اور عمرے اور زیارت مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یا سعودی عرب میں سیاحت کی غرض سے آنے والے تمام افراد کے تحفظ کی غرض سے کی جانے والی کوششوں کے ضمن میں کیے گئے ہیں۔‘‘

سعودی عرب کی وزارت صحت نے سوموار کو کرونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق کی ہے۔اس مہلک وائرس کا شکار ہونے والے اس سعودی شہری نے حال ہی میں ایران کا سفر کیا تھا اور بحرین کے راستے ملک میں واپس آیا تھا۔

سعودی عرب کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اس شہری نے بحرین سے مملکت کی داخلی گذرگاہ میں اپنی موجودگی ظاہر نہیں کی تھی۔اس کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے گئے اور ان کے نتائج مثبت آنے کے بعد اس کو اسپتال میں داخل کردیا گیا ہے۔ وہاں اس کو الگ تھلگ رکھا جارہا ہے اور منظور شدہ طریق کار کے مطابق اس کو علاج ومعالجے کی سہولتیں مہیا کی جارہی ہیں۔

سعودی وزارت صحت نے گذشتہ اتوار کو یہ اعلان کیا تھا کہ وہ اس مہلک وائرس کے کسی بھی کیس سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور مملکت میں اس کا شکار ہونے والے ممکنہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال کے لیے 8000 بستروں پر مشتمل 25 اسپتال تیار کرلیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے گذشتہ جمعرات کو بیرون ملک سے عمرہ پرآنے والے زائرین کے مکہ مکرمہ میں داخلے پر عارضی طور پر پابندی عاید کردی تھی۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق غیرملکیوں کا عمرے کے ویزے پر مملکت میں داخلہ عارضی طور پر معطل کیا گیا ہے اور اس ضمن میں محکمہ صحت اور سرکاری حکام کی فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں مزید فیصلے کیے جائیں گے۔سعودی عرب میں کرونا وائرس سے متاثرہ ممالک کے شہریوں کے سیاحتی ویزے پر داخلے پر بھی پابندی عاید کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں