.

ترکی نے ادلب میں فوجیوں کی تعداد بڑھا کر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی : روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ شام کے صوبے ادلب میں "دہشت گردوں" کی مورچہ بندیاں ترکی کی عسکری چیک پوائنٹس کے ساتھ ضم ہو گئی ہیں۔ وزارت دفاع نے باور کرایا کہ ترکی نے ادلب کے علاقے میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھا کر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

روسی میڈیا ایجنسی نے بدھ کے روز روسی وزارت دفاع کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ شام کے صوبے ادلب میں ہتھیاروں سے پاک زون قائم کرنے سے متعلق معاہدے کے حوالے سے ترکی اپنی پاسداریاں پوری کرنے میں ناکام ہو گیا۔

وزارت کے مطابق شام میں روس کے فضائی اڈے پر حملے روز کا معمول بن چکے ہیں۔

اس سے قبل شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے منگل کے روز تصدیق کی تھی کہ ادلب میں شامی فوج کی جانب سے ترکی کے ٹھکانوں پر میزائلوں کے حملے میں ترک فوج کے متعدد اہل کار ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ المرصد کے مطابق ہلاک اور زخمی فوجیوں کو ترکی کے ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے ترکی کی اراضی کے اندر منتقل کیا گیا۔

روس کے جنگی طیارے ادلب کے مشرقی دیہی علاقے میں سراقب شہر کے اطراف بھرپور حملے کر رہے ہیں۔ شہر کے شمال مغرب میں شامی فوج اور اس کے ہمنوا مسلح عناصر کی شامی اپوزیشن گروپوں کے ساتھ شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ اس دوران شامی اپوزیشن گروپوں کو ترکی کے توپ خانوں کی گولہ باری کی سپورٹ حاصل ہے۔

اس کے مقابل ترکی نے منگل کے روز سراقب شہر اور اس کے نواحی دیہات میں شامی فوج اور اس کے ہمنوا مسلح عناصر کے ٹھکانوں پر شدید بم باری کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس کے علاوہ ترکی کے ڈرون طیاروں نے معرہ النعمان کے علاقے میں شامی فوج کے ایک عسکری قافلے کو نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں ابتدائی طور پر متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ملیں۔