.

ایران اپنے پڑوسی ممالک میں کرونا وائرس منتقل کرنے کا ذمے دار ہے : امریکی اخبار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک طرف ایران کرونا وائرس سے لڑ رہا ہے جو دنیا بھر میں بدترین اور مہلک وائرس کے طور پر پھیلتا جا رہا ہے ... دوسری جانب ایران کے پڑوسی ممالک پھیلے بدترین وائرس کا سامنا ہے تو دوسری جانب ایران کے پڑوسی ممالک ایران کی سرحد کے اُس پار سے سامان اور افراد کی آمد روکنے کی تگ و دو میں ہیں۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس ایران سے تقریبا 10 ممالک منتقل ہوا جن میں پڑوسی ممالک عراق، افغانستان اور پاکستان شامل ہیں۔ ان ممالک نے ایران کے لیے فضائی پروازیں روک دیں اور ایرانیوں کے اپنے ملک آنے پر بھی پابندی عائد کر دی۔ ان اقدامات کا مقصد مذکورہ وائرس کو زیادہ بڑی صورت میں پھیلنے سے روکنا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ ایران میں قُم شہر اس وائرس کے ملک بھر میں پھیلنے کا مرکز ہے۔ یہ شہر ایک اہم تجارتی مرکز شمار کیا جاتا ہے جو چین سمیت دنیا بھر کے کاروباری افراد کے لیے کشش رکھتا ہے۔

پاکستان اور عراق نے ایرانیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی۔ تاہم خود ان ممالک کے ہزاروں شہریوں کے علاوہ افغانوں کی بڑی تعداد مزارات کی زیارت یا کاروباری سرگرمیوں کے سلسلے میں ایران کا دورہ کر رہی ہے۔ اگرچہ پاکستان اور عراق اپنے شہریوں کے ایران سفر پر روک لگانے کے لیے کوشاں ہیں۔

عراق اور افغانستان میں کئی برس سے جاری عسکری تنازع کے سبب دونوں ملکوں میں صحت سے متعلق دیکھ بھال کا نظام خرابی کا شکار ہو چکا ہے۔ عراقی وزارت صحت ملک میں کرونا وائرس کے 34 کیسوں کی تصدیق کر چکی ہے۔ ان میں تقریبا تمام ہی افراد کچھ عرصہ پہلے ایران سے لوٹے تھے۔

اگرچہ عراق نے ایرانیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے تاہم دونوں ملکوں کے بیچ 900 میل طویل سرحد سامان کے لیے اب بھی کھلی ہے۔ عراقی شہریوں نے اپنی حکومت پر زور دیا ہے کہ سرحد کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے۔ عراقی عوام اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ ایران سے درآمدات کا سلسلہ منقطع ہونے کے نتیجے میں عراق میں بنیادی نوعیت کی اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چُھو سکتی ہیں۔

ادھر پاکستان میں اب تک سامنے آنے والے کرونا کے تمام پانچ کیس ایران سے آنے والے افراد کے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان فضائی پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔ دونوں ملکوں کے بیچ تجارت نسبتا کم ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ وہ سامان جو پہلے خشکی کے راستے ایران کے ذریعے عراق اور دیگر ممالک پہنچتا تھا ،،، اب اسے سمندر کے راستے بھیجا جا رہا ہے۔

پاکستان اپنے 5 ہزار زائرین کو بسوں کے قافلوں کی صورت میں واپس لانے کی تیاری کر رہا ہے۔ پاک ایران سرحد پر مرکزی گزر گاہ پر طبی معائنوں کے لیے مراکز قائم کر دیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی طبی قید کے لیے ایک عمارت بھی بنائی گئی ہے جہاں کم از کم 2000 متاثرین کو رکھا جا سکتا ہے۔

افغانستان نے کرونا وائرس کا یک کیس سامنے آنے کے بعد ایران آمد و رفت کے سلسلے میں زمینی اور فضائی سفر کو معطل کر دیا۔ تاہم یہ اقدام صرف ایک دن کے لیے تھا۔ ایران سے ملحق افغان صوبے ہرات میں ذمے داران کا کہنا ہے کہ روزانہ 2 ہزار سے زیادہ افغان اب بھی ایران کے ساتھ سرحد کو عبور کر رہے ہیں۔

لبنان نے اپنے ملک میں کرونا وائرس کے 15 کیسوں کی تصدیق کی ہے۔ ان افراد میں ایک شامی اور ایک ایرانی شہری شامل ہے۔ یہ بات لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بتائی۔

لبنان کی جنرل سیکورٹی کے ترجمان نبیل حنون کا کہنا ہے کہ "ہم صرف سرکاری سرحدی گزر گاہوں کا پہرہ دے رہے ہیں ،،، ہم سرحد پر دیگر گزر گاہوں کے ذمے دار نہیں"۔

لبنانی ملیشیا حزب اللہ نے لبنان اور شام کے درمیان سرحد پر متعدد غیر اعلانیہ گزر گاہیں بنا رکھی ہیں۔ ان گزر گاہوں کو حزب اللہ کی عسکری فورس اور سیاسی جماعت اپنے افراد اور سامان کی منتقلی کے لیے استعمال کرتی ہے۔