.

بھارت کرونا وائرس کی وبا سے اب تک کیسے محفوظ رہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کرونا وائرس کی جائے پیدائش اور سب سے زیادہ متاثرہ ملک چین کا پڑوسی ہے اور اس کی طویل سرحد اس کے ساتھ ملتی ہے،اس کی آبادی دنیا کی کل آبادی کا قریباً پانچواں حصہ ہے لیکن اس ملک میں کرونا وائرس نے ابھی تک وبائی شکل اختیار نہیں کی ہے اور جنوبی ریاست کیرالہ میں کرونا وائرس کے جو چند ایک کیس سامنے آئے تھے، ان پر بھی قابو پالیا گیا ہے یا وہ مریض زیرعلاج ہیں اور تیزی سے روبہ صحت ہورہے ہیں۔

بھارت کے وزیر صحت ہرش وردھان نے بدھ کو ملک میں کرونا وائرس کے انتیس کیسوں کی اطلاع دی تھی۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے اس مہلک وائرس سے بچاؤ کے لیے سخت پیشگی حفاظتی اقدامات کیے ہیں،اس نے اپنے ہوائی اڈوں پر بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی سکریننگ کا جامع انتظام کیا ہے اور ان کا بڑے کڑے انداز میں معائنہ کیا جارہا ہے۔

بھارت نے 17 جنوری کو غیرملکی مسافروں اور اپنے شہریوں کے لیے ایک سفری ہدایت نامہ جاری کیا تھا اور 18 جنوری سے سات بڑے ہوائی اڈوں پر اترنے والے مسافروں کی سکریننگ کا آغاز کردیا تھا۔اس کے بعد اس عمل کو ملک کے 21 ہوائی اڈوں تک توسیع دے دی گئی۔

وزیر وردھان نے پارلیمان میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’اٹلی ، ایران ، جنوبی کوریا اور جاپان کے شہریوں کو تین مارچ یا اس سے قبل جاری کیے گئے تمام ریگولر یا ای ویزے فی الفور منسوخ کردیے گئے ہیں۔چین کے شہریوں کو پانچ فروری یا اس سے قبل جاری کیے گئے ویزے پہلے ہی منسوخ کیے جاچکے ہیں۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ ویزے کی ان پابندیوں کے علاوہ اٹلی یا جنوبی کوریا سے آنے والے مسافروں یا وہاں کچھ وقت گزار کر آنے والے افراد پر یہ شرط عاید کی گئی ہے کہ وہ وہاں کی مجاز لیبارٹریوں سے اپنے ٹیسٹوں کی رپورٹ لے کر آئیں جن میں یہ واضح ہو کہ ان کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ منفی ہے۔

کیرالہ کی کامیاب کہانی

بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ میں کرونا وائرس کے سب سے پہلے تین کیس رپورٹ ہوئے تھے ،وہ تینوں افراد اب علاج کے بعد صحت یاب ہوچکے ہیں اور انھیں اسپتالوں سے گھر جانے کی اجازت دی جاچکی ہے۔

بھارت کی مرکزی حکومت نے کرونا وائرس کا شکار افراد کو چودہ روز کے لیے الگ تھلگ رکھنے کا مشورہ دیا تھا لیکن کیرالہ کی حکومت نے حفظ ماتقدم کے طور پر اس وائرس سے متاثرہ افراد کو اٹھائیس روز تک الگ تھلگ رکھا ہے۔ریاست ان مریضوں کے ٹیسٹوں کی رپورٹ اور ان کی صحت کے بارے میں روزانہ بیان جاری کرتی رہی ہے۔

بھارت کی میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) کے سابق صدر ڈاکٹر کے کے اگروال ملک میں کرونا وائرس کے وبائی شکل اختیار نہ کرنے کی ایک اور وجہ بیان کرتے ہیں۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ ’’یہ وائرس کم درجہ حرارت میں نشوونما پاتا ہے،یہی سبب ہے کہ اس نے جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کو تیزی سے اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ یہ ممالک بھارت کے مقابلے میں زیادہ ٹھنڈے ہیں۔جنوبی کوریا اور جاپان میں یہ وائرس تیزی سے پھیلا ہے لیکن بھارت میں فروری کے اوائل میں چین سے ایک مریض کی آمد کے باوجود یہ نہیں پھیل سکا۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ماضی میں دنیا کے کئی ایک ممالک میں پھیلنے والے سارس ، زرد بخار اور ای بولا ایسے وبائی امراض کے دوران میں بھی بھارت پر کوئی زیادہ منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے تھے۔

پنسلوینیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے مرکز برائے متعدی امراض کی ڈائریکٹر ایلزبتھ میکگرا نے بھی اس مہلک وائرس کے پھیلنے کی یہی توضیح بیان کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’کرونا وائرس کا سرد موسم سے تعلق ہے۔اس کا اس کے مختلف ملکوں میں پھیلنے کے انداز سے بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔‘‘

تاہم بعض ماہرین اس نقطہ نظر کی تائید نہیں کرتے ہیں کہ جونہی موسمم گرما شروع ہوگا تو وبائی شکل اختیار کرنے والا یہ وائرس معجزانہ طور پر غائب ہوجائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی یہی خیال ہے۔

امریکا کے مرکز برائے انسداد امراض اور کنٹرول کی ڈاکٹر نینسی میسونئیر کا کہنا ہے:’’ میرے خیال میں ایسا اندازہ لگانا قبل از وقت ہے۔ہم نے ابھی تک اس بیماری کے ساتھ پورا ایک سال نہیں گزارہ ہے۔‘‘