.

ایران: طبی عملے کے 14 اعلیٰ عہدیدار بھی کرونا وائرس کی لپیٹ میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حکام نے عندیہ دیا ہے کہ شہروں کے درمیان سفر اور نقل و حرکت پر روک لگانے کے لیے "طاقت" کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وزارت صحت نے جمعے کے روز اعلان میں بتایا کہ اب تک 14 ایرانی طبی ذمے داران کرونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

ایرانی مقامی میڈیا نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ شمالی صوبے کیلان میں ایرانی وزیر صحت کے مندوب محمد حسین قربانی کا کہنا ہے کہ "اگر لوگوں نے گھر میں رہنے کے حوالے سے حکام کے مطالبے کی پاسداری نہ کی تو ہم انہیں بزورِ طاقت اس پر عمل کرانے کے لیے مجبور ہو سکتے ہیں"۔

ایرانی وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہانپور نے سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ایران میں اب تک کرونا وائرس سے 124 افراد فوت ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ملک میں کرونا کے تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد 4747 تک پہنچ گئی ہے۔

جہانپور نے اقرار کیا کہ کرونا وائرس اب ملک کے تمام 31 صوبوں میں موجود ہے۔

یاد رہے کہ ایران نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بڑے شہروں کے درمیان سفر پر کنٹرول کے واسطے چیک پوائنٹس بنائی جائیں گی۔

ایران نے بڑے شہروں میں جمعے کی نماز کے اجتماع بھی منسوخ کر دیے۔

کرونا وائرس سے شدید متاثرہ شہر قُم میں ایک ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر جواد خدا دادی کے کرونا سے متاثر ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس طرح مہلک وائرس کی لپیٹ میں آنے والے طبی ذمے داران کی تعداد بڑھ کر 14 ہو گئی ہے۔

ادھر ایرانی میڈیا نے خبر دی ہے کہ قُم شہر کے علمی مرکز (حوزہ) میں تفسیر کے مرکز کے ڈائریکٹر اکبر دہقان کرونا میں مبتلا ہونے کے بعد دنیا سے رخصت ہو گئے۔

اصلاح پسند رکن پارلیمںٹ مصطفی کواکبیان نے تہران حکومت کی جانب سے قُم شہر اور دیگر مذہبی زیارتی مقامات پر طبی قید لاگو کرنے کے فیصلے میں تاخیر پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔