.

ایران:گذشتہ 24 گھنٹے میں رکن پارلیمان فاطمہ رہبر سمیت کرونا وائرس سے مزید21 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی پارلیمان کی رکن فاطمہ رہبر مہلک کرونا وائرس کا شکار ہو کر دم توڑ گئی ہیں۔محکمہ صحت کے حکام کے مطابق ان خاتون سمیت گذشتہ 24 گھنٹے میں ملک میں کرونا وائرس سے مزید 21 اموات ہوگئی ہیں۔

فاطمہ رہبر کی کرونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد سے حالت تشویش ناک تھی اور جمعہ کو ان کی حالت کے بارے میں مختلف رپورٹس سامنے آئی تھیں۔ ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم نے ہفتے کے روز ان کی موت کی کی تصدیق کی ہے۔اس نے قبل ازیں یہ بتایا تھا کہ ’’فاطمہ رہبر کو آکسیجن کا ٹینک لگایا گیا تھا اور ان کی حالت تشویش ناک تھی۔ ‘‘

مرحومہ 2004ء سے 2016ء تک پارلیمان کی رکن رہی تھیں اور 21 فروری کو ملک میں منعقدہ پارلیمان انتخابات میں ایک مرتبہ پھر رکن منتخب ہوئی تھیں۔

واضح رہے کہ ایران کے متعدد سرکاری عہدے دار اور منتخب نمایندے کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔ان میں ایران کے دو نائب صدور اور رہبرِاعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دو مشیر بھی شامل ہیں۔ایران کی مصالحتی کونسل کے رکن محمد میر محمدی گذشتہ ہفتے اس مہلک وائرس سے بیمار پڑ کر فوت ہوگئے تھے۔

ایران کے محکمہ صحت کے ایک عہدہ دار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران میں کرونا وائرس سے مزید 21 افراد مارے گئے ہیں اورہفتے کے روزتک ایران میں اس نئے وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 145 ہوگئی ہے۔

انھوں نے ایک نشری بیان میں مزید بتایا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران میں مزید ایک ہزار افراد کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں اور اب ملک بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد 5823 ہوگئی ہے۔

ایران کے پڑوسی ممالک میں بھی کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔ان ممالک میں ایران سے لوٹنے والے افراد ہی کرونا وائرس پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔اس کے پیش نظر سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ،بحرین اور کویت نے حفظِ ماتقدم کے طور پر ایران سے مسافروں کی آمد ورفت پر پابندی عاید کردی ہے۔