.

'ترک وفد روسی ملکہ کے مجسمے کے سائے میں'، تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن حال ہی میں ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد کے ہمراہ روس کے دورے پر ماسکو پہنچے۔ ان کے اس دورے کو عالمی ذرائع ابلاغ نے تو کوریج دی مگر اس موقع پر لی گئی ایک تصویر سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ تصویراس وقت لی گئی جب طیب ایردوآن اور ان کے ہم منصب روسی صدر ولادی میر پوتین ایک ایسے ہال میں ملاقات کر رہے تھے جس میں دیوار پر روس کی ایک سابق ملکہ کیتھرین دوم کا ایک مجسمہ بھی نصب تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ترک حکومتی وفد اس مجسمے کےعین نیچے جا کر کھڑا ہوا جہاں ان کا گروپ فوٹو بنایا گیا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پریہ تصویر گرما گرم بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔

ایک ٹویٹر صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کیتھرین دوم ایک مشہور روسی مہارانی تھی۔ اس نے سلطنت عثمانیہ کو کئی محاذوں پر شکست سے دوچار کیا۔

بعض صارفین کا کہنا تھا کہ شاید ترک وفد کو ملکہ کیتھرین کی تاریخی اہمیت کا اندازہ اور اداراک نہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتین نے دانستہ طورپر ملکہ کیتھرین کے مجسمے کے ذریعے ترک وفد کی توہین کی۔ انہوں نے ترک وفد کو یاد دلایا کہ شام کے صوبہ ادلب میں ترکی کو ایسے ہی ہزیمت اٹھانا پڑی جیسے ماضی میں ملکہ کیتھرین کے ہاتھوں ترکوں کو یکے بعد دیگر کئی محاذوں پر شکستوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس ملاقات کی تصاویر میں ترک وفد کو ایک مجسمے کے نیچے دکھایا گیا تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کیتھرین دوم کا ہے ۔اس نے عثمانیوں کو کئی لڑائیوں میں شکست دی تھی۔ یہاں تک کہ 18 ویں صدی کے آخر میں روس اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان 'معاہدہ کنگاریہ' طے پایا اور لڑائیاں ختم ہوئیں۔

بات صرف ملکہ کیتھرین اور خلافت عثمانیہ کے درمیان لڑائیوں کے دوران ترکوں کی شکست کی نہیں۔ حال ہی میں روسی وزارت خارجہ نے ایک ایسا متنازع بیان بھی دیا تھا جس میں سنہ1877ء اور 1878ء کے دوران ہونے والی ان لڑائیوں کی یاد دلائی گئی جن میں ترکی کو روسی فوجوں کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانا پڑی تھی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ کیتھرین دوم جسے کیتھرین اعظم بھی کہا جاتا ہے۔ پوری تاریخ میں روس کے ایک نمایاں، اہم اور سب سے بڑے حکمرانوں میں سے ایک تھی۔ وہ بھی سب سے زیادہ وقت تک ور خواتین حکمرانوں میں سے ایک شمار کی جاتی ہیں۔ انہوں نے 1762ء سے اپنی وفات 1796ء تک روس میں حکومت کی۔ اس دوران روس اور خلافت عثمانیہ کے درمیان کئی بار مختلف محاذوں پر لڑائیاں ہوئیں۔