.

ترک پولیس کی یونان کے ساتھ سرحدی گذرگاہ پر اشک آور گیس کی فائرنگ : ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یونان نے دعویٰ کیا ہے کہ ترک پولیس نے قسنطیس کی سرحدی گذرگاہ پر اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔ اس نے اپنے اس دعوے کے حق میں ایک ویڈیو جاری کی ہے اور کہا ہے کہ اس وقت اس سرحدی گذرگاہ پر یورپ میں داخل ہونے کے منتظر سیکڑوں افراد موجود تھے۔

اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گیس ماسک پہنے ترک پولیس کے افسر اشک آور گیس کے گولے چلا رہے ہیں۔تاہم اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ ترک حکومت نے بھی اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

یونان نے دعویٰ کیا ہے کہ ترک پولیس کے اہلکار اشک آور گیس کے گولے یونانی فورسز کو سرحدی گذرگاہ سے پیچھے ہٹانے کے لیے چلا رہے تھے تاکہ وہاں جمع تارکینِ وطن کو سرحد توڑنے کا موقع مل سکے۔

ترکی کی یونان کے ساتھ واقع سرحد پر ہفتے کے روز اشک آور گیس اور دھواں چھوڑنے والے بم پھوڑے گئے تھے۔علاقے میں موجود برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کے نمایندے کا کہنا ہے کہ راکٹ نما اشک آور گیس کے گولے ترکی کے علاقے سے یونانی پولیس کی جانب فائر کیے جارہے تھے۔ یونانی پولیس دونوں ملکوں کے درمیان قسطنیس سرحدی گذرگاہ کے نزدیک باڑ کے دوسری جانب موجود تھی۔

حالیہ دنوں میں ہزاروں تارکین وطن ترکی کے یونان کے ساتھ واقع سرحدی علاقے کی جانب گئے ہیں اور وہاں سے یورپی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ دونوں ملکوں کی سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری بھی وہاں موجود ہے۔

ترکی نے 28 فروری کو یہ اعلان کیا تھا کہ وہ تارکین وطن کو اپنے سرحدی علاقے سے یورپ میں داخل ہونے کی اجازت دے دے گا۔اس کا کہنا تھا کہ وہ شام کے شمال مغربی علاقے میں لڑائی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد کوسرحدی علاقے میں زیادہ دیر تک نہیں روک سکتا ہے۔

یورپی یونین نے جمعہ کو ترکی کے سرحدی علاقے میں موجود تارکین وطن سے کہا تھا کہ وہ یونان کی حدود میں داخل ہونے سے گریز کریں لیکن اس نے ترکی کو تارکینِ وطن کے لیے مزید امداد دینے کا کوئی وعدہ نہیں کیا ہے۔یونان کے سرحدی علاقے میں پولیس اور تارکینِ وطن کے درمیان جاری کشیدگی دوسرے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے۔

یادرہے کہ ترکی نے 2016ء میں یورپی یونین کی جانب سے چھے ارب یورو کی امداد کے بدلے میں تارکین وطن کو اپنے سرحدی علاقے سے یونان کی جانب جانے کی اجازت نہ دینے سے اتفاق کیا تھا لیکن ترکی کا کہنا ہے کہ یورپی یونین نے اس سمجھوتے میں شامل ویزے اور تجارت میں بہتری کے لیے شقوں پر آج تک عمل درآمد نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں