.

ایردوآن کو پوتین سے ملاقات کے لیے کتنا انتظار کرایا گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے گذشتہ ہفتے ماسکو کا سرکاری دورہ کیا۔ اس دوران انہیں واضح طور پر توہین آمیز سلوک کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ دورے میں ایردوآن نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے اختتام پر جمعرات کے روز فریقین کے درمیان شام کے صوبے ادلب میں فائر بندی کے حوالے سے سمجھوتا سامنے آیا۔

ایردوآن کی توہین کی خبر 3 روز تک میڈیا سے چھپی رہی۔ اس لیے کہ باوثوق ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔ یہاں تک کہ روس کے ایک سرکاری ٹی وی چینل Россия-1 نے گذشتہ روز ایک وڈیو رپورٹ نشر کی جس میں ایردوآن کو دروازے پر نسبتا طویل انتظار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس وڈیو کا دورانیہ 13 منٹ کا ہے۔ وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایردوآن اور ان کے ہمراہ موجود وفد کو کریملن ہاؤس میں ہال کے دروازے پر دو منٹ تک انتظار کرنا پڑا۔ اس کے بعد انہیں داخلے کی اجازت ملی۔ روسی صدر پوتین مہمانوں کے خیر مقدم کے لیے ہال کے دروازے پر موجود ہونے کے بجائے ہال کے اندر موجود تھے۔ لہذا ایردوآن اور ان کے وفد نے ہال کے اندر پہنچ کر روسی صدر سے مصافحہ کیا۔

وڈیو میں نیوز بلیٹن کے اینکر نے بھی یہ بات کہی کہ ترکی کے صدر کو بیرونی ہال میں ضرورت سے زیادہ انتظار کرنا پڑا۔ ایردوآن ہال میں اس طرح کھڑے جیسے کوئی مسافر بس میں سوار ہونے کے لیے اس کا منتظر ہوتا ہے۔ اس دوران ترکی کے سرکاری وفد کے بعض ارکان بے چینی کا شکار نظر آئے۔

وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک منٹ اور پینتیس سیکنڈ تک انتظار میں کھڑے رہنے کے بعد ایردوآن بیزار ہو گئے اور ان کے چہرے پر تنگی کے آثار نمودار ہوئے۔ اس موقع پر ایردوآن نے دروازے کے باہر موجود ایک سیٹر کی صورت میں اپنی مشکل کا حل تلاش کر لیا اور اس پر براجمان ہو گئے۔ یقینا یہ سیٹر مہمان سربراہان کے لیے نہیں بلکہ کرملن ہاؤس کے ملازمین کے واسطے مختص تھی۔ اس کے چند سیکنڈوں کے بعد جا کر ایردوآن کرب کی حالت سے باہر آئے اور ان کے لیے مرکزی ہال کا دروازہ کھول دیا گیا۔