.

سعودی عرب میں داخلے پر صحت سے متعلق معلومات افشا نہ کرنے پرپانچ لاکھ ریال تک جرمانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے داخلی گذرگاہوں پر صحت سے متعلق درست معلومات افشا نہ کرنے والے افراد کو پانچ لاکھ ریال تک جرمانہ عاید کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سعودی حکومت نے مہلک کرونا وائرس کو ملک میں پھیلنے سےروکنے کے لیے حالیہ دنوں میں کئی ایک سخت اقدامات کیے ہیں۔صحت سے متعلق معلومات چھپانے والے افراد پر جرمانہ عاید کرنے کے اس اعلان سے چندے قبل ہی اس نے کرونا وائرس سے متاثرہ نو ممالک کے ساتھ سفری آمدورفت معطل کردی ہے۔ان ممالک میں متحدہ عرب امارات ،کویت ، بحرین ، لبنان ، شام ، عراق ، مصر ، اٹلی اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔

اس فیصلے کے تحت ان ممالک سے آنے والے مسافروں کو مملکت میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اس کے علاوہ اگرکسی شخص نے گذشتہ دو ہفتے کے دوران میں ان ممالک کا سفر کیا ہے تو اس کو بھی سعودی عرب میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سعودی عرب نے ان مذکورہ نو ممالک کے ساتھ طیاروں کے علاوہ بحری جہازوں کی آمد ورفت بھی معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت صحت نے سوموار کی صبح کرونا وائرس کے چار نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے۔اس کے بعد مملکت میں اس مہلک وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد پندرہ ہوگئی ہے۔ ان میں زیادہ ترنے حال ہی میں ایران کا سفر کیا تھا اور وہ ایران سے بحرین اور کویت کے راستے مملکت میں داخل ہوئے تھے۔

سعودی وزارت تعلیم نے اتوار کو کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے تمام اسکولوں،جامعات اور فنی تعلیم کے اداروں میں سوموار سے تاحکم ثانی تدریسی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس نے کہا تھا کہ ’’تمام تعلیمی سرگرمیاں معطل کرنے کا دانش مندانہ اقدام بچّوں کے بہترین مفاد میں کیا گیا ہے۔سعودی قیادت کو بچّوں کے تحفظ کے بارے میں تشویش لاحق ہے اور ان کی تدریس جاری رکھنے کے لیے مناسب متبادل مہیا کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے فاصلاتی نظام تعلیم کو بروئے کار لایا جائے گا۔‘‘