کرونا کے سبب خود کو طبی قید کا پابند کرنے والے صدر کون ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پرتگال کے صدر مارسیلو ریبیلو ڈی سوزا نے احتیاطی تدبیر کے طور پر خود پر طبی قید عائد کر دی ہے۔ انہوں نے دو ہفتوں کے لیے پرتگال اور بیرون ملک اپنی تمام عمومی سرگرمیوں کو معطل کر دیا ہے۔

صدر ڈی سوزا نے گذشتہ ہفتے ملک کے شمالی حصے میں ایک اسکول کا دورہ کیا تھا۔ بعد ازاں اسکول میں کرونا وائرس نمودار ہونے پر اسے بند کر دیا گیا۔

تاہم ایوان صدارت سے جاری ہونے والے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ "ہسپتال منتقل کیا جانے والا متاثرہ طالب علم صدر کے ساتھ ملاقات میں موجود نہیں تھا۔ مزید یہ کہ "صدر پر وائرس کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں" اور وہ صدارتی محل سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ صدر نے صحت سے متعلق حکام کی ہدایات کی پاسداری کا فیصلہ کیا ہے۔ اس لیے صدر ڈی سوزا سمجھتے ہیں کہ انہیں "عوام کے سامنے مثال" بننا چاہیے۔

پرتگال میں بالخصوص اس کے شمالی علاقوں میں ہفتے کے روز سے کرونا وائرس کے کیسوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اب تک ملک میں متاثرین کی تصدیق شدہ تعداد 20 ہو گئی ہے۔

حکام نے ملک کے شمالی حصے میں احتیاطی حفاظتی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان میں ہسپتالوں اور جیلوں کے دوروں کو معطل کرنا اور ایک اسکول اور دو جامعات کی تنصیبات کی بندش شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں