.

روسی پارلیمان نے صدر پوتین کے مجوزہ آئینی ترامیم کے پیکج کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی پارلیمان کے ایوان زیریں دوما نے منگل کے روز صدر ولادی میر پوتین کے مجوزہ آئینی ترامیم کے پیکج کی دوسری خواندگی کے بعد منظوری دے دی ہے۔

پارلیمان کے 382 ارکان نے آئین میں ترامیم کے حق میں ووٹ دیا ہے جبکہ 44 ارکان رائے شماری کے وقت ایوان سے غیر حاضر رہے ہیں۔

دوما کے چئیرمین (اسپیکر) ویاچسلاف فولودین نے کہا ہے کہ ارکان اب بدھ کو آئینی ترامیم پر تیسری اور چوتھی خواندگی کے بعد ووٹ دیں گے۔

روسی پارلیمان اگر صدرپوتین کی مجوزہ آئینی ترامیم کی منظوری دے دیتی ہے اور ان پرعمل درآمد کیا جاتا ہے تو بیشتراختیارات پارلیمان اور وزیراعظم کو منتقل ہوجائیں گے۔سڑسٹھ سالہ ولادی میر پوتین 2024ء میں اپنی موجودہ چھے سالہ صدارتی مدت پوری ہونے کے بعد وزیراعظم کی حیثیت میں برسراقتدار رہ سکیں گے۔

صدر پوتین نے ابھی یہ اعلان نہیں کیا ہے کہ اس کے بعد ان کے کیا ارادے ہیں۔ روس کے موجودہ آئین کے تحت پوتین 2012ء اور 2018ء میں دو مرتبہ مسلسل صدر منتخب ہوچکے ہیں اور وہ چھے سال کے لیے تیسری مرتبہ صدارتی انتخاب لڑنے کے اہل نہیں ہیں۔