.

ایران سے مقابلے کے لیے امریکا فضائی دفاعی نظام عراق بھیجے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سنٹرل کمانڈ کہا ہے کہ ایران ایران کی طرف سے کسی بھی عسکری جارحیت کی صورت میں جوابی کارروائی اور عراق میں امریکی فوجیوں کی حفاظت کے لیے عراق کو فضائی دفاعی نظام بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل کینتھ میک کینسی نے آرمڈ فورس کمیٹی کے ایک اجلاس میں کہا کہ ہم عراق کو ایئر ڈیفنس اور اینٹی بیلسٹک میزائل دفاعی نظام بھی بھیج رہے ہیں۔

پینٹاگان نے کہا ہے کہ وہ عراق سے آٹھ جنوری کو ایرانی میزائل حملے کے بعد امریکی فوجیوں کے دفاع کو تقویت دینے کی خاطر پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کو منتقل کرنے کے لیے عراق سے اجازت کے خواہاں ہے۔
تہران اور واشنگٹن کے مابین تناؤ کے پس منظر میں عراق میں امریکی مفادات پرحملوں کے واقعات میں امریکا نے ایران نواز شیعہ عسکریت پسندوں کو ان کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان حملوں کے بعد امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی فوج اتحاد نے دولت اسلامیہ'داعش' کے خلاف آپریشن معطل کردیا تھا۔

فروری کے وسط میں امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے اعلان کیا کہ 'نیٹو" اور داعش مخالف فوجی اتحاد مل کر داعش کے خلاف لڑائی جاری رکھیں گی۔
امریکی وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن 'داعش' کو شکست دینے کے لیے پرعزم ہے اور ہمارے اتحادی اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔