.

تُونس میں دہشت گردی کی آمد النہضہ تحریک کے ساتھ ہوئی: خاتون رکنِ پارلیمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تُونس کی پارلیمان میں آزاد دستور پارٹی کے پارلیمانی بلاک کی سربراہ عبیر موسیٰ نے النہضہ تحریک پر الزام عاید کیا ہے کہ اس نے ملک میں دہشت گردی کو داخل کیا اور دہشت گردی 2011 میں پارلیمنٹ کے اسپیکر راشد الغنوشی اور النہضہ تحریک کے اقتدار میں پہنچنے کے ساتھ داخل ہوئی۔

منگل کی شام پارلیمنٹ سے خطاب میں عبیر نے جمعہ کو دارالحکومت تونس میں امریکی سفارت خانے کے سامنے سیکورٹی دستے کو دھماکے سے نشانہ بنانے کی دہشت گرد کارروائی کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کو ایک منظم سیاسی ایجنڈے کے تحت راستہ دیا گیا، یہ 2011 میں النہضہ تحریک کے زیر قیادت "ٹرائیکا" کے اقتدار میں آنے سے ممکن ہوا۔

خاتون رکن پارلیمنٹ کے مطابق دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کی جانب پہلا قدم عام معافی کا وہ قانون تھا جو فروری 2011 میں جاری ہوا۔ اس قانون سے دہشت گردی میں ملوث تمام مجرموں نے فائدہ اٹھایا۔ اس کے نتیجے میں یہ لوگ واپس آئے اور انھوں نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے۔ اس کے ساتھ وزارت داخلہ اور انٹیلی جنس اداروں کو دہشت گردی کے انسداد کے میدان میں کمزور کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے اہل اور باصلاحیت شخصیات کو ان کی پوزیشنوں سے ہٹایا گیا۔

عبیر موسیٰ نے کہا کہ النہضہ موومنٹ کی سربراہی میں قائم ٹرائیکا کی حکومت کے دور میں مساجد میں اشتعال انگیز خطابت اور تکفیری رجحان پروان چڑھا۔ دنیا بھر میں دہشت گردوں کی فہرست میں شامل مبلغین کو تُونس میں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا۔ ان میں قطر میں مقیم مصری نژاد عالم یوسف القرضاوی بھی شامل ہیں۔ اسی طرح النہضہ کی برکت سے ملک میں سیاسی بنیادوں پر قتل اور ہلاکتوں کا رجحان سامنے آیا۔

خاتون رکن نے تمام سیاسی طبقے کو ملک میں دہشت گردی جاری رہنے کا ذمے دار ٹھہرایا۔ اس لیے کہ اس طبقے نے دہشت گردی کے لیے سیاسی آغوش پر چپ سادھ رکھی ہے۔ عبیر موسیٰ نے ریاست پر تکفیری جماعتوں کی سرپرستی کا الزام بھی عاید کیا۔